سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-465 Fatwa no: 1447-465

مرحوم کے قرض کی ادائیگی کی شرعی ذمہ داری

براہ راست فتویٰ
سوال :
محترم مفتیانِ کرام! زرداد خان نامی شخص وفات پا چکے ہیں، ان کے ورثاء میں 2 بیٹے اور 6 بیٹیاں شامل ہیں، یعنی مجموعی طور پر 8 وارث ہیں۔ مرحوم کے ذمے چودہ لاکھ بیس ہزار روپےقرض واجب الادا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ قرض صرف بیٹے ادا کریں گے یا بیٹیاں بھی شرعاً اس کی ادائیگی میں شریک ہوں گی؟ وضاحت کے ساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم زرداد خان نے کوئی ترکہ (مال، جائیداد یا دیگر اثاثے) چھوڑا ہے، تو اسی ترکہ سے ان کا قرض ادا کرنا شرعاً لازم ہے، اگر مرحوم نے کوئی مال یا ترکہ نہیں چھوڑا، تو شرعاً ورثاء پر قرض کی ادائیگی لازم نہیں، یعنی بیٹوں یا بیٹیوں میں سے کسی پر بھی شرعاً  مرحوم کا  قرض ادا کرنا لازم  نہیں ہے، البتہ اگر ورثاء صاحبِ استطاعت ہوں تو بہتر ہے کہ  وہ از خود خوش دلی سے اپنے عزیز والد مرحوم  کا قرض ادا کر دیں، تاکہ مرحوم کا بوجھ ہلکا ہو جائے اوریہ ان کے لئے باعث اجر وثواب ہوگا ۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام :
أما إذا لم توجد تركة للكفيل فلا تجبر الورثة ‌على ‌أداء ‌الدين ‌من ‌مالهم. (الهندية في الباب الأول من الكفالة) لأنه لا يجبر أحد على أداء دين آخر ما لم يوجد سبب شرعي كالكفالة والحوالة. مثلا ليس لأحد أن يطالب وارث المتوفى بتأدية ما له على المتوفى من الدين من مال بمجرد كونه وارثا إذا لم يقبض شيئا من تركة الميت.
(‌‌(المادة 671) (1/ 849) دار الجيل)
الاختيار لتعليل المختار:
يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه على قدرها ثم ‌تقضى ‌ديونه، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ماله، ثم يقسم الباقي بين ورثته.
(كتاب الفرائض(5/ 85) دار الكتب العلمية – بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب