نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم زرداد خان نے کوئی ترکہ (مال، جائیداد یا دیگر اثاثے) چھوڑا ہے، تو اسی ترکہ سے ان کا قرض ادا کرنا شرعاً لازم ہے، اگر مرحوم نے کوئی مال یا ترکہ نہیں چھوڑا، تو شرعاً ورثاء پر قرض کی ادائیگی لازم نہیں، یعنی بیٹوں یا بیٹیوں میں سے کسی پر بھی شرعاً مرحوم کا قرض ادا کرنا لازم نہیں ہے، البتہ اگر ورثاء صاحبِ استطاعت ہوں تو بہتر ہے کہ وہ از خود خوش دلی سے اپنے عزیز والد مرحوم کا قرض ادا کر دیں، تاکہ مرحوم کا بوجھ ہلکا ہو جائے اوریہ ان کے لئے باعث اجر وثواب ہوگا ۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام :
أما إذا لم توجد تركة للكفيل فلا تجبر الورثة على أداء الدين من مالهم. (الهندية في الباب الأول من الكفالة) لأنه لا يجبر أحد على أداء دين آخر ما لم يوجد سبب شرعي كالكفالة والحوالة. مثلا ليس لأحد أن يطالب وارث المتوفى بتأدية ما له على المتوفى من الدين من مال بمجرد كونه وارثا إذا لم يقبض شيئا من تركة الميت.
((المادة 671) (1/ 849) دار الجيل)
الاختيار لتعليل المختار:
يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه على قدرها ثم تقضى ديونه، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ماله، ثم يقسم الباقي بين ورثته.
(كتاب الفرائض(5/ 85) دار الكتب العلمية – بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔