سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-467 Fatwa no: 1447-467

مزارعت میں بیج مزارع کے ذمے ہونے کی صورت میں زمیندار پر ٹریکٹر کا خرچ ڈالنے کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
زید نے بکر کو زمین مزارعت پر دی، اور اس شرط پر معاہدہ ہوا کہ پہلا ہل بکر چلائے گا، بیج بھی بکر فراہم کرے گا، جبکہ کھاد، پانی اور اسپرے وغیرہ کے اخراجات دونوں (زید و بکر) مشترکہ طور پر برداشت کریں گے، اور فصل کی آمدنی دونوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔ تو کیا ایسی صورت میں یہ مزارعت شرعاً جائز ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک اگر بیج مالکِ زمین کی طرف سے ہو، تو ٹریکٹر (ہل) کا خرچ مالک یا مزارع، دونوں میں سے کسی ایک کے ذمے رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر بیج مزارع کی طرف سے ہو، تو ایسی صورت میں ٹریکٹر کا مکمل خرچ صرف مزارع ہی کے ذمے ہونا ضروری ہے۔ اگر اس خرچ میں مالکِ زمین کو شریک کرنے کی شرط رکھی جائے تو یہ شرط فاسد شمار ہوگی، اور ایسی فاسد شرط کی بنا پر مزارعت کا معاہدہ بھی شرعاً فاسد قرار پائے گا۔ چونکہ مذکورہ معاہدے میں ہے کہ صرف پہلا ہل مزارع کے ذمے ہوگا، جس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ باقی تمام ٹریکٹر کے اخراجات مالکِ زمین برداشت کرے گا، تو اس اعتبار سے دونوں فریق ٹریکٹر کے خرچ میں شریک ٹھہرتے ہیں۔ 
اور چونکہ بیج مزارع کی طرف سے ہے، اس لیے شرعاً ضروری تھا کہ ٹریکٹر کا مکمل خرچ بھی صرف مزارع کے ذمے لازم کیا جاتا، جبکہ مذکورہ معاہدے میں ٹریکٹر کے بعض اخراجات مالکِ زمین پر بھی ڈالے گئے ہیں، جو کہ شرطِ فاسد ہے، اس فاسد شرط کی وجہ سے پورا معاملہ (عقدِ مزارعت) بھی شرعاً فاسد ہو جاتا ہے۔
جہاں تک اخراجات کو مشترکہ طور پر برداشت کرنے کا تعلق ہے، تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ:
(1)     فصل تیار ہونے کے بعد والے اخراجات (جیسے کٹائی، گاہائی، وغیرہ) کو عرف یا باہمی رضا مندی سے مشترکہ (نصف، نصف) رکھا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ مکمل مزارع کے ذمے بھی  لازم کرنا درست ہے۔
(2)   فصل تیار ہونے سے پہلے والے اخراجات دو قسم کے ہوتے ہیں:
(الف) عمل کی وجہ سے لازم ہونے والے اخراجات (یعنی وہ اخراجات جو عامل (کاشتکار) کے عمل کی وجہ سے لازم ہوتے ہیں)، جیسے چوکیداری، بیج ڈالنے، پانی لگانے  کی اجرت وغیرہ، یہ صرف مزارع کے ذمے ہوتے ہیں، ان میں مالک زمین کو شریک کرنے کی شرط لگانا  شرطِ فاسد ہے۔
 (ب) فصل تیار ہونے سے پہلے کھیتی پر ہونے والے اخراجات مثلاً کھاد اور اسپرے وغیرہ کے اخراجات، ایسے اخراجات مالک زمین اور کاشتکار دونوں پر حصوں کے تناسب سے لازم ہیں ۔
سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق چونکہ ٹریکٹر کا خرچ مشترک ہے، اگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اخراجات بھی جو عامل کے عمل سے متعلق ہوں (جیسے چوکیداری، بیج ڈالنا، پانی دینا وغیرہ ) دونوں فریقین کے ذمے مشترکہ طور پر لازم کیے گئے ہوں، تو یہ معاہدہ دو وجوہ سے شرعاً فاسد قرار پاتا ہے، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے، اس  معاملے کا شرعی متبادل یہ ہے کہ ٹریکٹر کا خرچ اور وہ تمام اخراجات جو عامل کے عمل کی بنیاد پر لازم ہوتے ہیں، صرف کاشتکار کے ذمے لازم کیے جائیں، تو ایسی صورت میں مزارعت کا یہ عقد شرعاً درست ہوگا۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (8/ 182):
قال رحمه الله: (فإن ‌كانت ‌الأرض ‌والبقر ‌لواحد ‌والعمل ‌والبذر ‌لآخر، إن كان البذر لأحدهما والباقي لآخر، أو كان البذر والبقر لواحد والباقي لآخر) ... شرع يبين الشروط المفسدة لها أما الأول وهو ما إذا ‌كانت ‌الأرض ‌والبقر ‌لواحد ‌والعمل ‌والبذر ‌لآخر فلأن صاحب البذر استأجر الأرض واشترط البقر على صاحب الأرض ففسدت لأن البقر لا يمكن أن يجعل تبعا للأرض؛ لأن منفعة البقر الشق، ومنفعة الأرض الإنبات وبينهما اختلاف وشرط التبعية الاتحاد، وروى في الأمالي عن أبي يوسف أنها جائزة، وفي الخانية: والفتوى على الأول.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (5/ 280):
قال رحمه الله (فإن كانت الأرض والبقر لواحد والعمل والبذر لآخر، أو كان البذر لأحدهما والباقي لآخر، الخ) .... وهذه الجملة التي عدها مفسدة للإجارة أما الأول وهو ما إذا كانت الأرض والبقر لواحد والعمل والبذر لآخر فلأن صاحب البذر استأجر الأرض، واشتراط البقر على صاحب الأرض مفسد للإجارة؛ لأن البقر لا يمكن أن يجعل تبعا للأرض؛ لأن منفعة البقر ليست من جنس منفعة الأرض؛ لأن منفعتها الإنبات، ومنفعة البقر الشق وبينهما اختلاف، وشرط التبعية الاتحاد فصار شرطا مفسدا بخلاف ما إذا كان البقر مع العامل حيث يجوز؛ لأن البقر أمكن جعله تبعا لاتحاد منفعتهما؛ لأن منفعة البقر صلاحية يقام بها العمل كإبرة الخياط وعن أبي يوسف أنه يجوز للتعامل، والقياس يترك به والظاهر الأول. 
و في حاشية الشلبي تحت هذه العبارة:
(قوله: وهو ما إذا كانت الأرض والبقر لواحد) قال الأتقاني وفي الفصل الرابع لا يجوز لأنه يصير صاحب البذور(وهو العامل)مستأجرا للأرض والبقر ببعض الخارج فيكون البعض بمقابلة البقر مقصودا ولم يرد به الشرع فبقي على أصل القياس.
وفي حاشية الشلبي تحت هذه العبارة لتبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  (5/ 283):
(قوله في المتن: ‌ونفقة ‌الزرع ‌عليهما ‌بقدر حقوقهما إلخ) حاصل الكلام هنا على ثلاثة أوجه ذكرها الكرخي في مختصره ما كان قبل بلوغ الزرع ما يصلح به الزرع فهو على العامل وما كان بعد ما تناهى الزرع فهو عليهما وما كان بعد القسمة فهو على كل واحد منهما في نصيبه خاصة دون صاحبه إلى هنا لفظ الكرخي رحمه الله وذلك لأن كل ما يحتاج إليه الزرع قبل بلوغ الزرع مما يصلح به فهو على العامل لأن ذلك عمل المزارعة، وهو معقود عليه من جهة المزارع فيختص به، وكل ما يحتاج إليه بعد تناهي الزرع فهو عليهما على قدر حصصهما فكذلك النفقة وما يحتاج إليه بعد القسمة فهو على كل واحد منهما في نصيبه لأن نصيب كل واحد منهما قد تميز فيكون مؤنته عليهما خاصة. اهـ. أتقاني.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب