سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-468 Fatwa no: 1447-468

مسجد میں چوری یا تبدیلی کی صورت میں چھوڑے گئے جوتوں کے استعمال کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گزشتہ روز مسجد میں میرے جوتے کسی نے چوری کر لیے، اور بدلے میں اپنے پرانے جوتے چھوڑ گیا، جو کہ ظاہراً کم قیمت کے ہیں۔ کیا میرے لیے ان چھوڑے گئے جوتوں کو استعمال کرنا جائز ہے؟برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

اگر کوئی شخص کسی کے جوتے چوری کرے یا غلطی سے دوسرے کے جوتے اٹھا لے اور اپنے جوتے وہاں چھوڑ جائے ، تو چھوڑے گئے یہ جوتے "لقطہ" (یعنی گمشدہ مال) کے حکم میں ہوتے ہیں ،لہٰذا اگر ان کے اصل مالک کا پتہ لگانا ممکن نہ ہو، تو ان کے استعمال کی جائز صورت یہ ہے کہ وہ جوتے کسی فقیرجیسے اپنی بالغ اولاد یا کسی مستحق عزیز کو صدقہ کر دے، پھر وہ فقیر اپنی رضامندی سے وہ جوتے واپس کر دے، تو اس صورت میں ان کا استعمال جائز ہو جائے گااور اگر لینے والا خود ہی فقیر ہو، تو اس کے لیے یہ حیلہ بھی ضروری نہیں، بلکہ وہ براہِ راست ان جوتوں کو استعمال کر سکتا ہے۔
البتہ بعض فقہاءِ کرام  فرماتے ہیں کہ اگر چھوڑے گئے جوتے چوری شدہ جوتوں  سے کم قیمت کے ہوں، تو پھر یہ جوتے  لقطہ کے حکم میں نہیں ہوں گے بلکہ "بمنزلة إلقاء النوى وقشور الرمان" (یعنی گٹھلیوں یا انار کے چھلکوں کی طرح پھینکی گئی بے وقعت چیز) کےہوں گے اور ایسے جوتوں کا استعمال بغیر کسی حیلے کے بھی جائز ہوگا، کیونکہ"لأن أخذ الأجود وترك الأدون دليل الرضا بالانتفاع به"  یعنی: بہتر جوتے لے جانا اور کم تر کو چھوڑ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ چھوڑنے والے نے ان سے فائدہ اٹھانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
البتہ علامہ شامیؒ (صاحبِ رد المحتار) فرماتے ہیں:  کہ یہ تفصیل اسی وقت قابلِ عمل ہوگی جب قرائن سے واضح ہو کہ واقعی چوری ہوئی ہے اور چور نے جان بوجھ کر کم قیمت جوتے چھوڑے ہیں، تاکہ اس کی رضامندی سے استفادہ کا حکم لگایا جا سکے،لیکن اگر قرائن سے یہ معلوم ہو کہ جوتے غلطی سے بدل گئے ہیں، یا معاملہ مشتبہ ہو کہ چوری ہوئی ہے یا محض غلطی سے اٹھا لیے گئے ہیں، تو ایسی صورتوں میں وہ جوتے لقطہ (گمشدہ مال) کے حکم میں رہیں گے، اور ان کا استعمال مذکورہ حیلہ (یعنی فقیر کو صدقہ کر کے اس کی رضامندی سے واپس لینا) کیے بغیر جائز نہ ہوگا ۔
حاشية ابن عابدين :
وفي الخانية: وضعت ملاءتها ووضعت الأخرى ملاءتها ثم أخذت الأولى ملاءة الثانية لا ينبغي للثانية الانتفاع بملاءة الأولى، فإن أرادت ذلك قالوا ينبغي أن تتصدق بها على بنتها الفقيرة بنية كون الثواب لصاحبتها إن رضيت ثم تستوهب الملاءة من البنت؛ لأنها بمنزلة اللقطة.
(مطلب سرق مكعبه ووجد مثله أو دونه) وكذلك الجواب في المكعب إذا سرق اهـ وقيده بعضهم بأن يكون المكعب الثاني كالأول أو أجود، فلو دونه لهالانتفاع به بدون هذا التكلف؛ لأن أخذ الأجود وترك الأدون دليل الرضا بالانتفاع به، كذا في الظهيرية، وفيه مخالفة للقطة من جهة جواز التصدق قبل التعريف وكأنه للضرورة اهـ ملخصا.
قلت: ما ذكر من التفصيل بين الأدون وغيره إنما يظهر في المكعب المسروق، وعليه لا يحتاج إلى تعريف؛ لأن صاحب الأدون معرض عنه قصدا فهو بمنزلة الدابة المهزولة التي تركها صاحبها عمدا بل بمنزلة إلقاء النوى وقشور الرمان. أما لو أخذ مكعب غيره وترك مكعبه غلطا لظلمة أو نحوها ويعلم ذلك بالقرائن فهو في حكم اللقطة لا بد من السؤال عن صاحبه بلا فرق بين أجود وأدون، وكذا لو اشتبه كونه غلطا أو عمدا لعدم دليل الإعراض، هذا ما ظهر لي فتأمله.
(مطلب من وجد دراهم في الجدار(4/ 285) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب