نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں اگر واقعی آپ کی کچھ مہینوں کی تنخواہ باقی ہے اور متعلقہ شخص ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، تو وہ سخت گناہگار ہے،نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہےکہ : «مَطْلُ الغَنِيِّ ظُلْمٌ» صحيح البخاری (3/ 118) یعنی صاحبِ استطاعت کا ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود ٹال مٹول کرنا ظلم ہے،لہٰذا اس شخص پر واجب ہے کہ وہ آپ کی رقم فوراً ادا کرے،نیز آپ کو اپنی تنخواہوں کی وصولی کے لیے ہر قسم کی جائز قانونی کارروائی کرنے کا حق بھی حاصل ہے ،نیز اگر اس شخص کا کوئی سامان آپ کے قبضے میں موجود ہو، تو آپ اس سامان کو فروخت کرکے اپنی واجب الادا ء رقم وصول کر سکتے ہیں، تاہم اگر اپنی واجب الاداء رقم کی وصول کے بعد کچھ رقم باقی بچ جائے، تو وہ اسے واپس کرنا شرعاً ضروری ہوگا۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (1/299):
وقال أبو حنيفة رحمه الله: يجوز له الأخذ إن كان ما وجده من جنس حقه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دراهم مملوكة له. يجوز له أخذها بقدر حقه، ولا يجوز له إن كان من غير جنسه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دنانير، لا يجوز له الأخذ. هذا أصل مذهب الحنفية، لكن المتأخرون من فقهاء الحنفية أفتوا في هذه المسألة بقول الشافعي، رحمه الله، فأجازوا للظافر أن يستوفي حقه مما ظفر به من مال المدين مطلقا، سواء كان المال الذي ظفر به من جنس حقه، أو لم يكن ، يقول ابن عابدين ناقلا عن شرح القدوري للأخضب:(إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم، لمطاوعتهم في الحقوق.والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان، لا سيما في ديارنا، لمداومتهم العقوق).
(الفصل السادس عشر في جهاز البنت (1/ 327)دار الفكر بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔