سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-469 Fatwa no: 1447-469

مسئلۃ الظفر کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک بندے کے ساتھ کام کرتا تھا ، میری کچھ مہینوں کی تنخواہ اس کے ذمے باقی ہے ، جو میرے مانگنے کے باوجود وہ نہیں دے رہے ، میرے پاس اس صاحب کا کچھ سامان پڑا ہے ،کیا میں اس کے سامان کو بیچ کر اپنی تنخواہ وصول کرسکتا ہوں ۔جزاکم اللہ تعالیٰ خیرا
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی آپ کی کچھ مہینوں کی تنخواہ باقی ہے اور متعلقہ شخص ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، تو وہ سخت گناہگار ہے،نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہےکہ : «مَطْلُ الغَنِيِّ ظُلْمٌ» صحيح البخاری (3/ 118) یعنی صاحبِ استطاعت کا ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود ٹال مٹول کرنا ظلم ہے،لہٰذا اس شخص پر واجب ہے کہ وہ آپ کی رقم فوراً ادا کرے،نیز  آپ کو اپنی تنخواہوں کی وصولی کے لیے ہر قسم کی جائز قانونی کارروائی کرنے کا  حق  بھی حاصل ہے ،نیز اگر اس شخص کا کوئی سامان آپ کے قبضے میں موجود ہو، تو آپ اس سامان کو فروخت کرکے اپنی واجب الادا ء رقم وصول کر سکتے ہیں، تاہم اگر اپنی واجب الاداء رقم کی وصول کے  بعد کچھ رقم باقی بچ جائے، تو وہ اسے واپس کرنا شرعاً ضروری ہوگا۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (1/299):
وقال أبو حنيفة رحمه الله: يجوز له الأخذ إن كان ما وجده من جنس حقه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دراهم مملوكة له. يجوز له أخذها بقدر حقه، ولا يجوز له إن كان من غير جنسه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دنانير، لا يجوز له الأخذ. هذا أصل مذهب الحنفية، لكن المتأخرون من فقهاء الحنفية أفتوا في هذه المسألة بقول الشافعي، رحمه الله، فأجازوا للظافر أن يستوفي حقه مما ظفر به من مال المدين مطلقا، سواء كان المال الذي ظفر به من جنس حقه، أو لم يكن ، يقول ابن عابدين ناقلا عن شرح القدوري للأخضب:(إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم، لمطاوعتهم في الحقوق.والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان، لا سيما في ديارنا، لمداومتهم العقوق).
(الفصل السادس عشر في جهاز البنت (1/ 327)دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب