نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں اگر پلازہ کی تعمیر میں صرف بھائیوں نے ذاتی رقم خرچ کی تھی، بہنوں نے اس میں رقم خرچ نہیں کی تھی، تو تعمیر کی ملکیت میں تعمیر کرنے والے بھائی (اپنے اپنے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب سے) شریک ہوں گے، بہنوں کا تعمیر میں حصہ نہیں ہوگا۔
البتہ چونکہ زمین سب کی مشترکہ ملکیت ہے اور بہنوں کا اس میں حصہ موجود ہے، اس لیے زمین کی قیمت میں بہنوں سمیت تمام شرکاء شرعی حصوں کے بقدر شریک ہوں گے،لہذا جب پلازہ بیچا جائے گا، تو زمین کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے بہنوں کو ان کے حصے کے مطابق حصہ دیا جائے گا، جبکہ تعمیر کی مالیت صرف تعمیر کرنے والے بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوگی۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 315):
الاحتمال الثالث - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)
الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها.. والله سبحانه و تعالي اعلم
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔