سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-470 Fatwa no: 1447-470

مشترکہ زمین پر بعض شرکاء کی جانب سے تعمیر شدہ پلازہ کی ملکیت کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ بھائیوں نے ایک پلازہ بنایا اس زمین پر جس میں بہنوں کا بھی حصہ ہے لیکن تعمیر میں بہنوں کو شامل نہیں کیا گیا، پلازہ کا کرایہ 10 سال سے بھائی کھانے کے بعد اب وہ پلازہ بیچنا چاہتے ہیں، اب اس پلازہ کی تعمیر میں بہنوں کا حصہ شامل ہوگا یا پھر وہ بھائی بہنوں کو صرف غیر تعمیری زمین کے پیسہ دیں گے؟
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر پلازہ کی تعمیر میں صرف بھائیوں نے ذاتی رقم خرچ کی تھی، بہنوں نے اس میں رقم خرچ نہیں کی تھی، تو تعمیر کی ملکیت میں تعمیر کرنے والے بھائی (اپنے اپنے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب سے) شریک ہوں گے، بہنوں کا تعمیر میں حصہ نہیں ہوگا۔  
البتہ چونکہ زمین سب کی مشترکہ ملکیت ہے اور بہنوں کا اس میں حصہ موجود ہے، اس لیے زمین کی قیمت میں بہنوں سمیت تمام شرکاء شرعی حصوں کے بقدر شریک ہوں گے،لہذا  جب پلازہ بیچا جائے گا، تو زمین کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے  بہنوں کو ان کے حصے کے مطابق حصہ دیا جائے گا، جبکہ تعمیر کی مالیت صرف تعمیر کرنے والے بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوگی۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 315):
الاحتمال الثالث - إذا ‌عمر ‌أحد ‌الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)
الاحتمال الرابع - إذا ‌عمر ‌أحد ‌الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها.. والله سبحانه و تعالي اعلم 

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب