سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-471 Fatwa no: 1447-471

مشتری کی طرف سے بائع پر زائد قیمت پر مال واپس خریدنے کی شرط لگانے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
میں ایک کاروباری معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی کے لیے آپ کی خدمت میں سوال پیش کر رہا ہوں،ہم دبئی میں ایک 13 منزلہ عمارت تعمیر کر رہے ہیں۔ ایک سرمایہ کار ہم سے ایک مکمل فلور (جس میں 9–10 اپارٹمنٹس شامل ہیں) خریدنا چاہتا ہے، ہم نے اس سے فی مربع فٹ 900 درہم کے حساب سے بیچنے پر اتفاق کیا ہے، اور وہ مکمل قیمت فوری ادا کرنے پر رضامند ہے،اب وہ سرمایہ کار ایک شرط رکھ رہا ہے:كہ جب آپ یہ فلور ہمیں بیچ دیں گے (اور ہم قیمت ادا کر دیں گے)، تو آپ اُسی وقت یا جلد ہی ہمارے ساتھ دوسرا معاہدہ کریں کہ آپ ایک سال بعد (یا عمارت مکمل ہونے پر) یہی فلور 1200 درہم فی مربع فٹ پر ہم سے واپس خرید لیں گے،یعنی یہ دو الگ الگ معاہدے ہوں گے: 1. پہلا معاہدہ: ہمارا اُسے فلور فروخت کرنا 900 درہم فی مربع فٹ پر، جس میں وہ مکمل ادائیگی فوری کرے گا۔ 2. دوسرا معاہدہ: ہم وہی فلور ایک سال بعد یا عمارت مکمل ہونے پر اُس سے 1200 درہم فی مربع فٹ پر واپس خریدیں گے، اور مکمل رقم ایک قسط میں (One Installment) ادا کریں گے۔ اضافی وضاحت: جب ہم اس سرمایہ کار کے ساتھ اس ڈیل پر بات چیت کر رہے تھے، تو ہم نے اسے واضح طور پر بتایا کہ ہم آپ سے فی مربع فٹ 900 درہم کے حساب سے یہ فلور ابھی بیچ رہے ہیں، اور ایک سال بعد یا بلڈنگ مکمل ہونے کے وقت مارکیٹ ریٹ ممکنہ طور پر 1200 سے بھی زائد ہو سکتا ہے — مثلاً 1300 یا 1400 درہم فی مربع فٹ تک،اس پر سرمایہ کار نے ہمیں صاف الفاظ میں کہا کہ: “آپ میرے ساتھ 1200 درہم فی مربع فٹ فکس کر لیں، ایک سال بعد آپ مجھ سے یہ فلور واپس خرید لیں، اس کے بعد آپ چاہیں تو اسے مختلف کلائنٹس کو بیچ کر جتنا نفع حاصل کریں، وہ آپ کا ہو گا، مجھے اس نفع پر کوئی اعتراض نہیں، مجھے صرف اتنا چاہیے کہ آپ مجھے 1200 درہم فی مربع فٹ دیں‘‘ اب سوال يہ ہے کہ کیا اس قسم کی دو الگ الگ ڈیل، جن میں ایک “Buy-Back” کا وعدہ شامل ہو (جس میں ہم ایک مقررہ قیمت پر ایک سال بعد فلور خریدیں گے)، شرعی طور پر جائز ہے؟ کیا یہ معاملہ سود (ربا)، بیع العِینہ، یا مشروط بیع کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا اس طرح buy-back کی شرط کے ساتھ معاہدہ کرنا جائز ہے، جب کہ سرمایہ کار کی نیت صرف یہ ہو کہ وہ مارکیٹ کے مسائل سے بچنا چاہتا ہے اور نفع کمانا چاہتا ہے، اور وہ فریقِ ثانی کو نفع کمانے کی بھی اجازت دے رہا ہو؟ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں تاکہ ہم اسلامی اصولوں کے مطابق عمل کر سکیں۔جزاکم اللہ خیراً
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ فلور کو واپس خریدنے کا معاہدہ، پہلے عقدِ بیع کے بعد اس طرح کیا جائے کہ پہلی بیع اس شرط سے خالی ہو، اور بعد میں الگ سے مستقل طور پر صرف وعدۂ بیع (یعنی ایک سال بعد معیّن نرخ پر دوبارہ خریدنے کا وعدہ) کیا جائے، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے،اس صورت میں پہلا معاملہ عقدِ بیع شمار ہوگا اور بعد والا وعدۂ ِبیع تصور کیا جائے گا، جو کہ شرعاً لازم نہیں ہوتا۔ البتہ اگر واپسی خریداری کا معاہدہ پہلی ہی بیع میں مشروط ہو، یعنی عقدِ بیع کی بنیاد اس شرط پر رکھی گئی ہو کہ بائع مقررہ نرخ پر ایک سال بعد وہی فلور خریدار سے واپس خریدے گا، تو چونکہ یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہے، اس لیے اس کی بنا پر پورا عقد شرعاً فاسد اور ناجائز قرار پائے گا ۔ 
الفتاوى العالمكيرية:
وأما الذي يرجع إلى نفس الركن فمن شرائط الصحة: خلوه عن شرط فاسد، وهو الشرط المخالف لمقتضى العقد الداخل في صلب العقد من البدل فإن لم يخالف مقتضى العقد جاز الشرط والعقد، وإن ‌خالف ‌مقتضى ‌العقد لكنه لم يدخل في صلبه يبطل الشرط، ويبقى العقد صحيحا هكذا في البدائع. 
(كتاب المكاتب، (5/ 3) دار الفكر بيروت)
فقه البيوع علي المذاهب الأربعة:
وليتنبه أن العثمانيين قد ادخلوا تعديلا في مجلة الاحكام العدليةباضافة مادة جديدة على الوجه الآتي:
 ’’البيع بشرط يعود نفعه على أحد العاقدين صحيح ، والشراء معتبر ، فاذا باع فرسا على ان يركبها مدة كذا أو اشترى المشتري شيئا مقابل السكني داره المعلومة فذلك البيع صحيح ، والشرط معتبر‘‘.
 وجاء في المذكره التفسيرية لهذه المادة:
’’ ان تقييد البيع بشرطٍ ب ’’على‘‘كما  أنه لا يجوز عند الحنفية كذلك لم تجزه المالكية والشافعية . وفي زماننا هذا نرى أن البيوع تعقد خلافا لهذه المذاهب الثلاثة ، فوجب القول بما تقول به الحنابلة لتقريب اعمال الناس الى الجواز، ما استطعنا الى ذلك سبيلا‘‘.
 نقله الدكتور عبد الرزاق السنهوري في كتابه ’’مصادر الحق في الفقه الإسلامي‘‘ و الذي يبدو أن تعميم حكم الجواز لجميع الشروط في البيع ربما يؤدي الى مفاسد والظاهر أن ما ذهب اليه الحنفية من جواز الشرط المتعارف يغطي  الحاجة التي ذكرتها هذه المذكرة.
 (الباب الثاني في الشروط الفاسدة (1/ 501) مكتبة معارف القرآن)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب