سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-43 Fatwa no: 1447-43

امام اور مقتدی کے درمیان حائل ہونے کی صورت میں اقتداء کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر مسجد کے ہال کا دروازہ اور کھڑکیاں وغیرہ ایئر کنڈیشن کی وجہ سے بندکردیئے گئے ہوں اور اندر ہال نمازیوں سے بالکل بھرا ہوا ہو،جس کی وجہ سے کچھ مقتدی باہر برآمدے میں نماز پڑھ رہے ہوں ،تو پوچھنا یہ ہے کہ ان کی نماز ہوجاتی ہے یا نہیں ؟جبکہ امام صاحب کی قراءت اور تکبیر کی آواز آرہی ہو ،نیز اگر امام کی آواز نہ آتی ہو ،تو پھرکیا حکم ہےنماز ہوجاتی ہے یا نہیں ؟
جواب :

بصورت مسئولہ اگر مسجد کے برآمدے میں مقتدیوں  پر امام کی حالت مشتبہ نہ ہوتی ہو ،یعنی  امام کی قراءت اور انتقالات کا مقتدیوں کو صحیح علم ہوتا ہو،تو نماز درست ہوجاتی ہے،لیکن اگر امام کی قراءت اور انتقالات کا مقتدیوں کو صحیح علم نہ ہوتا ہو ،تو پھر نماز درست نہیں ہوگی،اسی طرح  اگر امام کی آواز نہ آتی ہو ،لیکن مقتدیوں کو آگے والے صفوں سے یا سپیکر کے  ذریعے سےامام کے انتقالات کا صحیح علم ہوتا ہو،تو پھر بھی نماز ہوجاتی ہے۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(والحائل لا يمنع) الاقتداء (إن لم يشتبه حال إمامه) بسماع أو رؤية ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الأصح.
(قوله بسماع) أي من الإمام أو المكبر تتارخانية (قوله أو رؤية) ينبغي أن تكون الرؤية كالسماع، لا فرق فيها بين أن يرى انتقالات الإمام أو أحد المقتدين (قوله في الأصح) بناء على أن المعتبر الاشتباه وعدمه كما يأتي، لا إمكان الوصول إلى الإمام وعدمه (قوله ولم يختلف المكان) أي مكان المقتدي والإمام. وحاصله أنه اشترط عدم الاشتباه وعدم اختلاف المكان، ومفهومه أنه لو وجد كل من الاشتباه والاختلاف أو أحدهما فقط منع الاقتداء.
(كتاب الصلاة،ج1،ص586،ط:دارالفكر)
وفى الفتاوى الهندية:
وإن كان في الحائط باب مسدود قيل: لا يصح الاقتداء ؛ لأنه يمنعه من الوصول وقيل: يصح ؛ لأن وضع الباب للوصول فيكون المسدود كالمفتوح. هكذا في محيط السرخسي والمسجد وإن كبر لا يمنع الفاصل فيه. كذا في الوجيز للكردري.
(كتاب الصلاة،ج1،ص88،ط:دارالفكر)
وفى الفقه الإسلامي وأدلته:
والخلاصة: إن اختلاف المكان يمنع صحة الاقتداء، سواء اشتبه على المأموم حال إمامه أو لم يشتبه، واتحاد المكان في المسجد أو البيت مع وجود حائل فاصل يمنع الاقتداء إن اشتبه حال الإمام. أما وجود فاصل يسع صفين أو أكثر في الصحراء أو في المسجد الكبير جداً، فيمنع الاقتداء.
(كتاب الصلاة،ج2،ص1249،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب