سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-472 Fatwa no: 1447-472

مضاربت فاسدہ اور قسطوں پر رہائش کے لیے خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
(1)۔کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص (زید) نے امجد کو کاروبار کے لیے 45 لاکھ روپے بطورِ مضاربت دیے، تاہم نفع کی کوئی متعین شرح طے نہیں کی گئی، بلکہ صرف یہ طے پایا کہ جو نفع حاصل ہوگا اس میں سے کچھ امجد رکھ لے گا اور کچھ زید کو دیتا رہے گا، جبکہ مکمل حساب بعد میں کیا جائے گا ، کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے ؟ (2)۔بعد ازاں زید نے امجد سے 31 لاکھ روپے مالیت کا ایک پلاٹ خریدا، باہمی طے شدہ معاملہ یہ ہوا کہ زید کے دیے گئے 45 لاکھ روپے پر جو منافع بنے گا، اس میں سے امجد ہر ماہ 30 ہزار روپے پلاٹ کی قیمت کی مد میں وصول کرتا رہے گا، چنانچہ اب تک امجد پلاٹ کی قیمت میں سے 7 لاکھ روپے وصول کر چکا ہے، واضح رہے کہ پلاٹ زید کے قبضہ میں آچکا ہے اور یہ کاروبار کے لیے نہیں بلکہ ذاتی رہائش (گھر بنانے) کے مقصد سے خریدا گیا ہے،دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں زید پر زکوٰۃ کی ادائیگی کس طرح واجب ہوگی؟ براہِ کرم تحریری جواب مرحمت فرما دیں ۔
جواب :

(1)۔۔۔۔ سوال میں ذکرکردہ  معاملہ  شرعاً درست نہیں ، کیونکہ یہ عقدِ مضاربت ہے اور عقد ِ مضاربت میں حاصل شدہ نفع کو فیصد کے حساب سے مثلاً60 فیصد،40 فیصد وغیرہ کے تناسب سے طے کرنا ضروری ہے، اگر نفع کی تناسب فیصد کے اعتبار سے متعین نہ ہو تو عقدِ مضاربت فاسد ہوجاتا ہے ، صورت ِ مسئولہ میں چونکہ  نفع متعین نہیں کیا تھا ، اس لئے یہ مضاربتِ فاسدہ ہے ،شرعاً اس کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ معاملہ کو ختم  کرکےارسر ِ نو شرعی طریقے کے مطابق عقد  کرنا ضروری ہے اوراب تک کاروبار کرنے والےمضارب نےمذکورہ معاملہ کے نتیجہ میں جو نفع حاصل کیا ہے اس میں سے کاروباری اخراجات منہا کرنے کے بعد ہونے والا نفع رب المال (زید) کا ہےاور مضارب(امجد)کو اپنی محنت کی اجرتِ مثل ملے گی،یعنی مارکیٹ میں اس جیسا  کام کرنے والے کو جو اجرت دی جاتی ہےوہ مضارب  کو ملے گی، لیکن اگر صحیح حساب کرنا دشوار ہو تو باہمی صلح کے ذریعے مقدار طے کی جا سکتی ہے، اور اس میں کوشش کی جائے کہ دونوں فریقین کی رعایت شامل ہو۔
(2)۔۔۔چونکہ مذکورہ پلاٹ تجارت کی نیت سے نہیں بلکہ ذاتی رہائش کے لیے گھر بنانے کی غرض سے خریدا گیا ہے، لہٰذا اس کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔البتہ زید جب اپنے دیگر اموالِ زکوٰۃ (مثلاً: امجد کو کاروبار کے لیے دی گئی رقم یا دیگر قابلِ زکوٰۃ اموال) کی زکوٰۃ کا حساب کرے گا تو پلاٹ کی باقی ماندہ اقساط میں سے صرف ایک سال کے اندر واجب الادا اقساط یعنی تین لاکھ ساٹھ ہزار (360,000) روپے منہا کرے گا ، باقی  اقساط کو منہا نہیں کرے گا ۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام:
 (و) الخامس (كون ‌نصيب ‌المضارب ‌من ‌الربح معلوما عنده) أي عند العقد لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد .
(شروط المضاربة(2/ 311) دار الجيل)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
كون المضارب في المضاربة ‌الفاسدة ‌أجيرا ‌حكما وعقد المضاربة إجارة فاسدة؛ لأن المضارب عامل لرب المال وحصة الربح التي شرطت له كأجرة عمله فإذا فسدت المضاربة يظهر معنى الإجارة ولا يأخذ المضارب ربحا؛ لأن الربح يستحق في المضاربة الصحيحة.
(الفصل الثالث في بيان أحكام المضاربة (3/ 437) دار الجيل) 
حاشية ابن عابدين :
(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع ‌وعدمه ‌وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع .
(‌‌كتاب الزكاة (2/ 261) دار الفكر - بيروت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلا كان أو مؤجلا؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: ‌إن ‌المؤجل ‌لا ‌يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة، فأما المعجل فيطالب به عادة فيمنع، وقال بعضهم: إن كان الزوج على عزم من قضائه يمنع، وإن لم يكن على عزم القضاء لا يمنع؛ لأنه لا يعده دينا وإنما يؤاخذ المرء بما عنده في الأحكام.
(فصل في الشرائط التي ترجع على من عليه المال (2/ 6) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب