سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-473 Fatwa no: 1447-473

مُقرِض اگر حرام مال سے دیا گیا قرض مستقرض کو ہبہ کرے تو مستقرض کے لئے استعمال کرنا جائز ہے یانہیں ؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نےایک رشتہ دار سے کچھ مجبوری کی وجہ سے 125000 روپے قرض لیا تھا، اب وہ شخص قرض واپس لینے پر آمادہ نہیں اور کہتا ہے: "یہ آپ کے ہو گئے" لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس شخص کا کاروبار شراب کا ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس رقم کا استعمال جائز ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ قرض میں مقروض کی طرف سے واپس کیا گیا مال شرعاً مُقرِض کے دیے ہوئے مال کے حکم میں ہوتا ہے، اگر مُقرِض نے حلال مال قرض دیا ہو تو واپس ملنے والے مال سے انتفاع جائز ہےاور اگر قرض حرام مال (جیسے شراب کی آمدنی) سے دیا گیا ہو، تو واپس شدہ مال کا استعمال بھی مُقرِض کے لیے جائز نہیں ہوتا ، جیسا کہ’’ «المبسوط» للسرخسي (14/ 30) ‘‘کی درج ذیل عبارت سے واضح ہوتا ہے ،( ان بدل القرض في الحكم كأنه عين المقبوض؛ إذ لو لم يجعل كذلك كان مبادلة الشيء بجنسه نسيئة، وذلك لا يجوز) لہٰذا ایسی رقم کا اصل حکم یہ ہے کہ وہ اصل مالک کو واپس کی جائے اور اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو بغیر نیتِ ثواب کے اس کی طرف سے صدقہ کرنا ضروری ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مُقرِض نے وہ قرض شراب کی آمدنی (یعنی حرام مال) سے دیا تھا اور کسی حلال مال سے نہیں دیا، اور بعد میں وہی رقم آپ کو بطور ہبہ دے دی، تو اگر آپ مستحقِ زکوٰۃ ہیں (یعنی آپ کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر سونا، نقدی، مالِ تجارت، یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور آپ سادات میں سے بھی نہ ہوں) تو ایسی رقم کا استعمال آپ کے لیے جائز ہے، بصورتِ دیگر آپ کے لیے بھی اس رقم کا استعمال جائز نہیں بلکہ اس کا بغیر نیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہوگا۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب البيوع ، باب التولية (4/ 84) دار الكتاب الإسلامي):
 (قوله: فإن المعير إذا وقت) أي إلى سنة. اهـ. مستصفى. (قوله: له أن يرجع فيه) أي من ساعته اهـ مستصفى وكتب ما نصه والحيلة في صحة تأجيل القرض أن يحيل المستقرض المقرض على آخر بدينه ويؤجل المقرض ذلك الرجل مدة معلومة فإنه يصح........ (قوله: وعلى اعتبار الانتهاء لا يجوز إلخ) قال في المستصفى وعلى اعتبار الانتهاء لا يصح؛ لأنه يصير بيع الدراهم بالدراهم نسيئة والتأجيل إنما يكون في حالة البقاء فلهذا لا يصح أو يقال إن ‌بدل ‌القرض ‌في ‌الحكم كأنه عين المقبوض إذ لو لم يجعل كذلك كان مبادلة الشيء بجنسه نسيئة وأنه حرام وإذا كان كذلك يكون عارية ابتداء وانتهاء والتوقيت في العواري غير لازم فكذا الأجل في القرض، ولو صححنا على معنى أنه يصير لازما لأخرجناه من أن يكون عارية ومن أن يكون بدل القرض في حكم عينه فيكون مبادلة الشيء بجنسه نسيئة وأنه حرام وهذا الوجه أوجه.

فقه البيوع،المبحث العاشرفي أحكام المال الحرام (۲/ ۱۰۰٦)معارف القرآن):
أمافي بيان القسم الأول، نعبرعن جميع العقودالباطلة فيمايأتي بالمغصوب، والذي يقبض هذا المال الحرام بالغصب. وذلك لسهولة التعبير.يشمل هذا التعبير كل مال حرام لايملكه المرأ في الشرع، سواء كان غصبا ، أوسرقة ، أورشوة ، أورباً في القرض أومأخوذاً ببيع باطل. وإنه حرام للغاصب الانتفاع به، أوالتصرف فيه ، فيجب عليه أن يرده إلى مالكه، أوإلى وارثه بعدوفاته، وإن لم يمكن ذلك لعدم معرفة المالك أووارثه،أولتعذرالردعليه لسبب من الأسباب ، وجب عليه التخلص منه بتصدقه عنه من غيرنية ثواب الصدقة لنفسه.
وفيه ايضاً(2/1045):
و الملك الخبيث سبيله التّصدّق به,  و لو صرفه فى حاجة نفسه جاز,ثم إن كان غنيّاً,فصدّق بمثله, وإن كان فقيرا لا يصدّق"ولكن مقيّد بما إذا لم يكن عنده مال آخر لدفع حاجته.قال صاحب الهداية:"إلا اذا كان لا يجد غيره, لأنّه محتاج إليه,و له أن يصرفه إلى حاجة نفسه فلو أصاب مالاً, تصدّق بمثله إن كان غنيّاً وقت الأستعمال.وأن كان فقيرا فلا شيئ عليه. 
 الاختيار لتعليل المختار، ‌‌كتاب الغصب،(3/ 61)دار الكتب العلمية – بيروت):
والملك الخبيث سبيله التصدق به، ‌ولو ‌صرفه ‌في ‌حاجة ‌نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب