نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ قرض صرف معاف کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئےمستحق ِ زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنانا ضروری ہے،البتہ اس صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا آسان طریقہ یہ ہے کہ قرض خواہ زکوٰۃ کی نیت سے مقروض( بشرطیکہ وہ مستحق ِ زکوٰۃ ہو) کو زکوٰۃ کی رقم دے کر اس کا مالک بنا دے، جب وہ اس رقم کا مالک بن جائے، تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، اس کے بعد اسی رقم سے قرض وصول کر لیاجائے ، اس طریقہ سے زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی اور مقروض بھی قرض سے بری الذمہ ہوجائے گا ۔
الدرالمختار مع رد المحتار:
واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه، فإن مانعه رفعه للقاضي
رد المحتار:
وفي صورتين لا يجوز: الأولى أداء الدين عن العين كجعله ما في ذمة مديونه زكاة لماله الحاضر... الثانية أداء دين عن دين سيقبض كما تقدم عن البحر.... (قوله وحيلة الجواز) أي فيما إذا كان له دين على معسر، وأراد أن يجعله زكاة عن عين عنده أو عن دين له على آخر سيقبض (قوله أن يعطي مديونه إلخ) قال في الأشباه وهو أفضل من غيره أي لأنه يصير وسيلة إلى براءة ذمة المديون.
(كتاب الزكاة (2/ 270) دار الفكر – بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔