نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں(1) ۔۔۔کسی میچ کے لیے مدعو کیے گئے کھلاڑیوں کا آمد و رفت کا کرایہ، سفر کے اخراجات، اور کھیلنے کے بدلے معاوضہ لینا شرعی طور پر جائز ہے، بشرطیکہ یہ معاوضہ پہلے سے متعین کر لیا گیا ہو۔
البناية شرح الهداية (5/ 660):
ولأن النفقة جزاء الاحتباس، فكل من كان محبوسا بحق مقصود لغيره، كانت نفقته عليه، وأصله القاضي والعامل في الصدقات.
وأصله) ش: أي أصل من كان محبوسا لمنفعة ترجع إلى غير. م: (القاضي والعامل في الصدقات) ش: لأنهما حبسا أنفسهما لمصالح المسلمين فيجب كفايتهما، وكذلك المفتي والمتولي والوصي والمضارب إذا سافر بمال المضاربة والمقاتلة إذا قاموا بكفاية المسلمين في دفع عدوهم يجب كفايتهم.
(2)۔۔۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لئے جو فیس وصول کی جاتی ہے وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کےلئے وصول کی جاتی ہے،جس کا معاوضہ انہیں(شریک ٹیموں کو) اس ٹورنامنٹ میں شرکت اور دوسری سہولیات کے ذریعہ حاصل ہوجاتاہے، اور دی جانے والی یہ رقم ٹورنامنٹ انتظامیہ کی ملکیت ہوتی ہے ، جس میں اس کو اس بات کا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس رقم کو مذکورہ ٹورنامنٹ کے انعقاد اور اس کے لئے دیگر لوازمات مہیا کرنے میں خرچ کرے، یہ فیس مجموعی انتظامی امور کے لئے لی جاتی ہے جس میں انعام بھی شامل ہوتا ہے جو انتظامیہ جیتنے والوں کو دیتی ہے، اور بظاہر فیس دینے والوں کا منشأ بھی کھیل(ٹورنامنٹ ) میں شرکت کرنا ہوتا ہے،یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کی فیس دی جائے، جبکہ ادارہ امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو کوئی انعام بھی دے۔
اس کی مثال حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے 'امداد المفتین' (صفحہ 709) میں ایک گھوڑ دوڑ کے سوال کے جواب میں دی ہے، جہاں گھوڑے کے مالک سے شرکت کے لیے فیس لی جاتی ہے، اور بعد میں جیتنے والے کو منتظمین بطور انعام انٹری فیس میں جمع شدہ رقم سے زیادہ رقم دیتے ہیں، سوال مع جواب ملاحظہ فرمائیں :
(سوال ٧٤٩) ایک جگہ گھوڑ دوڑ میں پانچ پانچ روپیہ کا ٹکٹ مالک گھوڑے سے لیا جاتا ہے، اور اگر وہ ٹکٹ والا گھوڑ ا اول نمبر پر آوے تو پانچ پانچ روپیہ کے بجائے سویا ایک ہزار روپیہ تک مل جاتا ہے آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں۔؟
(الجواب) یہ صورت گھوڑ دوڑ کی جو دوسرے طریقہ کے عنوان سے بیان کی گئی ہے شرعاً جائز ہے کیونکہ در حقیقت اس شرط کی صورت ہی نہیں بلکہ ایسا ہے کہ پانچ روپیہ تو گھوڑ دوڑ میں گھوڑے کے داخل کرنے کی فیس کلب لیتا ہے اور پھر جس کا گھوڑا بڑھ جاوے اس کو کچھ روپیہ ایک ہزار تک بطور انعام دیتا ہے تو یہ روپیہ شرط پر نہ ملا بلکہ بطور انعام کے حاصل ہو ا جس میں کوئی شرعی گناہ نہیں۔ واللہ اعلم
لہذامذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں انٹری فیس سے جیتنے والی ٹیم کو نقد یا ٹرافی وغیرہ کی شکل میں انعام دینےکی گنجائش ہے، یہ قمار میں داخل نہیں ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 206):
وكذلك ما يفعله السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين: من سبق منكما فله كذا فهو جائز لما بينا أن ذلك من باب التحريض على استعداد أسباب الجهاد خصوصا من السلطان فكانت ملحقة بأسباب الجهاد، ثم الإمام إذا حرض واحدا من الغزاة على الجهاد بأن قال: من دخل هذا الحصن أولا فله من النفل كذا ونحوه جاز كذا هذا، وبل أولى لما بينا.
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔