سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-476 Fatwa no: 1447-476

میچ کھیلنے پر اجرت لینے اور ٹورنامنٹ میں رجسٹریشن فیس سے انعام دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
1. کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ آج کل ٹینس بال کرکٹ ایک مقبول کھیل بن چکا ہے،بعض کھلاڑی دوسرے شہروں یا علاقوں سے مدعو کیے جاتے ہیں اور ان کو آنے جانے کا کرایہ، سفر کا خرچ، اور کھیلنے کی فیس دی جاتی ہے، بعض کھلاڑی اسی کو ذریعہ معاش بھی بنائے ہوئے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعی طور پر ان کھلاڑیوں کا اس طرح کرکٹ کھیلنے کے عوض معاوضہ لینا (سفر خرچ، کرایہ یا فیس) جائز ہے یا نہیں ؟ 2. آج کل کرکٹ کے ٹورنامنٹس منعقد کیے جاتے ہیں، جن کے منتظمین تمام ٹیموں سے مقررہ انٹری فیس (مثلاً دو یا تین ہزار روپے) وصول کرتے ہیں، اس فیس سے ٹورنامنٹ کے ضروری انتظامی اخراجات (جیسے گراؤنڈ کا کرایہ، گیند، پانی، امپائر وغیرہ) نکالنے کے بعد، منتظمین اس میں سے کچھ رقم خود رکھ لیتے ہیں اور باقی رقم جیتنے والی ٹیم کو بطور انعام دے دی جاتی ہے۔ جیتنے والی ٹیم کو صرف وہی رقم دی جاتی ہے جو تمام ٹیموں کی انٹری فیس سے جمع ہوتی ہے،اس صورتِ حال میں شرعی سوالات درج ذیل ہیں: 1. کیا اس طرح انٹری فیس جمع کر کے ٹورنامنٹ منعقد کرنا شرعاً جائز ہے؟ 2. کیا انٹری فیس کی جمع شدہ رقم سے جیتنے والی ٹیم کو انعام دینا جائز ہے؟ 3. کیا منتظمین کے لیے انٹری فیس سے کچھ رقم اپنے لیے رکھنا درست ہے؟ 4. اگر یہ صورت ناجائز ہو تو کیا اس کا کوئی شرعی متبادل یا جواز کی صورت موجود ہے؟ برائے کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں واضح اور مدلل جواب عنایت فرمائیں تاکہ شرعی حدود کے مطابق رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
جواب :

(1) ۔۔۔کسی میچ کے لیے مدعو کیے گئے کھلاڑیوں کا آمد و رفت کا کرایہ، سفر کے اخراجات، اور کھیلنے کے بدلے معاوضہ لینا شرعی طور پر جائز ہے، بشرطیکہ یہ معاوضہ پہلے سے متعین کر لیا گیا ہو۔
 البناية شرح الهداية (5/ 660):
ولأن النفقة جزاء الاحتباس، فكل من كان محبوسا ‌بحق ‌مقصود ‌لغيره، كانت نفقته عليه، وأصله القاضي والعامل في الصدقات.
وأصله) ش: أي أصل من كان محبوسا لمنفعة ترجع إلى غير. م: (القاضي والعامل في الصدقات) ش: لأنهما حبسا أنفسهما لمصالح المسلمين فيجب كفايتهما، وكذلك المفتي والمتولي والوصي والمضارب إذا سافر بمال المضاربة والمقاتلة إذا قاموا بكفاية المسلمين في دفع عدوهم يجب كفايتهم.
(2)۔۔۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لئے جو فیس وصول کی جاتی ہے وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کےلئے وصول کی جاتی ہے،جس کا معاوضہ انہیں(شریک ٹیموں کو) اس ٹورنامنٹ میں شرکت اور دوسری سہولیات کے ذریعہ حاصل ہوجاتاہے،  اور دی جانے والی یہ رقم ٹورنامنٹ انتظامیہ کی ملکیت ہوتی ہے ، جس میں اس کو اس بات کا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ  وہ اس رقم کو مذکورہ ٹورنامنٹ  کے انعقاد اور اس کے لئے دیگر لوازمات مہیا کرنے میں خرچ کرے،  یہ فیس مجموعی انتظامی امور کے لئے لی جاتی ہے جس میں انعام بھی شامل ہوتا ہے جو انتظامیہ جیتنے والوں کو دیتی ہے، اور بظاہر فیس دینے والوں کا منشأ بھی کھیل(ٹورنامنٹ ) میں شرکت کرنا ہوتا ہے،یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کی فیس دی جائے،  جبکہ ادارہ امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو کوئی انعام بھی دے۔
اس کی مثال حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ  نے 'امداد المفتین' (صفحہ 709) میں ایک گھوڑ دوڑ کے سوال کے جواب میں دی ہے، جہاں گھوڑے کے مالک سے شرکت کے لیے فیس لی جاتی ہے، اور بعد میں جیتنے والے کو منتظمین بطور انعام انٹری فیس میں جمع شدہ رقم سے زیادہ رقم دیتے ہیں، سوال مع جواب ملاحظہ فرمائیں :
 (سوال ٧٤٩) ایک جگہ گھوڑ دوڑ میں پانچ پانچ روپیہ کا ٹکٹ مالک گھوڑے سے لیا جاتا ہے، اور اگر وہ ٹکٹ والا گھوڑ ا اول نمبر پر آوے تو پانچ پانچ روپیہ کے بجائے سویا ایک ہزار روپیہ تک مل جاتا ہے آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں۔؟
(الجواب) یہ صورت گھوڑ دوڑ کی جو دوسرے طریقہ کے عنوان سے بیان کی گئی ہے شرعاً جائز ہے کیونکہ در حقیقت اس شرط کی صورت ہی نہیں بلکہ ایسا ہے کہ پانچ روپیہ تو گھوڑ دوڑ میں گھوڑے کے داخل کرنے کی فیس کلب لیتا ہے اور پھر جس کا گھوڑا بڑھ جاوے اس کو کچھ روپیہ ایک ہزار تک بطور انعام دیتا ہے تو یہ روپیہ شرط پر نہ ملا بلکہ بطور انعام کے حاصل ہو ا جس میں کوئی شرعی گناہ نہیں۔ واللہ اعلم
لہذامذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں   انٹری فیس سے جیتنے  والی ٹیم کو  نقد یا  ٹرافی وغیرہ کی شکل میں انعام دینےکی گنجائش ہے، یہ قمار میں داخل نہیں ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 206):
‌وكذلك ‌ما ‌يفعله ‌السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين: من سبق منكما فله كذا فهو جائز لما بينا أن ذلك من باب التحريض على استعداد أسباب الجهاد خصوصا من السلطان فكانت ملحقة بأسباب الجهاد، ثم الإمام إذا حرض واحدا من الغزاة على الجهاد بأن قال: من دخل هذا الحصن أولا فله من النفل كذا ونحوه جاز كذا هذا، وبل أولى لما بينا. 

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب