سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-477 Fatwa no: 1447-477

''میرے گھر سے نکل جا ''کے بعد صریح الفاظ میں دو طلاق دینے کی صورت میں کل کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پٹھان میاں بیوی کے درمیان فون کال پر تلخ کلامی جاری تھی کہ اس دوران شوہر نے بیوی کو کہا کہ "زمادہ کوره اوزہ (میرے گھر سے نکل جا) اور اس کے بعد دو مرتبہ کہا کہ’’ ته په ما طلاقه ئے‘‘ ’’ته په ما طلاقه ئے‘‘اس کا ترجمہ یہ ہے کہ (تو مجھ پر طلاق ہے ) یعنی تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان الفاظ سے عورت کو کتنی طلاقیں واقع ہو گئیں ؟ اور اب یہ عورت اسی شوہر کیلئے حلال ہونے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب :

سوال میں   ذکرکردہ صورت حال کے مطابق شوہر کا یہ جملہ ''زمادہ کوره اوزہ'' (میرے گھر سے نکل جا)  طلاق کے معنی میں زیادہ واضح نہیں ہے ، یہ طلاق کیلئے بھی استعمال ہوتاہے اور طلاق کے علاوہ دوسرے معانی کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے ،اگر یہ جملہ طلاق کی نیت سے کہاگیا  تھا تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہےاس  کے بعد جو جملہ دو مرتبہ کہا ہے یعنی کہ’’ ته په ما طلاقه ئے‘‘’’ ته په ما طلاقه ئے‘‘(تو مجھ پر طلاق ہے )اس  سے  مزید دو  طلاقیں  واقع ہوكر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا  اور بغیر حلالہ  کے آپس میں نکاح بھی نہیں ہو سکتا  ۔
اور اگر پہلا  جملہ طلاق کی نیت سے نہیں کہا  كياتھا،تو اس سےتو طلاق واقع نہیں ہوئی ، البتہ اس  کے بعد جو جملہ دو مرتبہ کہا ہے یعنی ’’ ته په ما طلاقه ئے‘‘’’ ته په ما طلاقه ئے‘‘اس  سے دو  طلاق رجعی بہرحال واقع ہوگئی ہیں ، جس کا حکم یہ ہےکہ اس صورت میں  عدت کے اندر اندر رجوع کرنا  جائز ہے،اور اگر عدت مکمل ہوگئی ہو تو رجوع  کافی نہیں ،البتہ دونوں کی رضامندی سےبغیر حلالہ کے   نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ کیا جا سکتا ہے ۔  خلاصہ یہ ہے کہ اگر پہلا جملہ طلاق کی نیت سے کہا گیا تھا تو تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں اوراگر طلاق کی نیت سے نہیں کہا گیا تھا تو اس سے طلاق تو واقع نہیں ہوئی البتہ مابعد کے جملہ سے  دو طلاق ِ رجعی  واقع ہوگئی ۔
المحيط البرهاني:
أجمع العلماء على أن ‌الصريح ‌يلحق بالصريح ما دامت في العدة، فكذلك البائن يلحق بالصريح، والصريح يلحق بالبائن ما دامت في العدة عندنا؛ لأن بعد الإبانة محلية الطلاق باقية ما دامت العدة باقية؛ لأن محلية الطلاق بقيام العقد وبعد الإبانة العقد باق ما بقيت العدة بدليل بقاء الأثر المختص به وهو المنع عن الخروج والتزين والتزوج بزوج آخر.
(‌‌الفصل الخامس: في الكنايات (3/ 272) دار الكتب العلمية)
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري:
ومن الكنايات أيضا ‌اخرجي ‌واذهبي وقومي وتزوجي وانطلقي وانتقلي ولا نكاح بيني وبينك ولا سبيل لي عليك ولا نكاح لي عليك فإن أراد به الطلاق كان طلاقا وإلا فلا.
(الطلاق على ضربين صريح وكناية،(2/ 35) المطبعة الخيرية)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين :
فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي (يحتمل ردا(،… (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا.
وفي حاشته (3/ 301):
‌والحاصل ‌أن ‌الأول ‌يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية وقد نظمت ذلك بقولي:
نحو اخرجي قومي اذهبي ردا يصح … خلية برية سبا صلح
واستبرئي اعتدي جوابا قد حتم … فالأول القصد له دوما لزم
والثاني في الغضب والرضا انضبط … لا الذكر والثالث في الرضا فقط»
(‌‌ ‌‌باب الكنايات (3/ 298) دار الفكر – بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب