سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-479 Fatwa no: 1447-479

نذر ِ معلق میں تکرار کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ عبد الله نامی ایک طالب علم جو ہربات ہر کسی سے بحث کرتاتھا ، اس نے قسم کھائی کہ اگر میں نے پھر بحث کی تو تین روزے رکھوں گا اور بیس رکعات نوافل پڑھوں گا ، ایک بار اس نے قسم کھانے کے بعد بحث کی اور تین روزے رکھے اور نوافل پڑھیں ، چونکہ اس نے مطلقاً قسم کھائی ہے ایک دو مرتبہ کی قید نہیں لگائی، وہ طالب ہے سحری کے لئے کچھ میسر نہ ہونے کی وجہ سے روزے رکھنے میں دقت ہوتی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ پوری زندگی میں ہر مرتبہ بحث کرنے پر روزے رکھے گا یا ایک مرتبہ سے اس کی قسم پوری ہوجائے گی ؟ ۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں چونکہ عبد اللہ نامی طالب علم نے بحث کرنے پر تین روزے رکھنے اور بیس رکعات نفل پڑھنے کی نذر ان الفاظ کے ساتھ معلق کی''اگر میں نے پھر بحث کی تو تین روزے رکھوں گا اور بیس رکعات نفل پڑھوں گا''، اور چونکہ شرط کے یہ الفاظ تکرار کا تقاضا نہیں کرتے، جیسا کہ درج ذیل فقہی حوالہ جات سے واضح ہے، لہٰذا جب وہ ایک بار حانث ہو چکا  ہےاور اپنی نذر بھی  پوری کر چکا ہے تو اس کی یمین پوری ہو گئی، اب آئندہ بحث کرنے پر وہ دوبارہ حانث شمار نہیں ہوگا۔ 
الدرالمختار مع رد المختار:
(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (‌إذا ‌وجد ‌الشرط ‌مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث)
(قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر.
(مطلب في ألفاظ الشرط(3/ 352) ط: دار الفكر - بيروت)
شرح الوقاية:
(وألفاظ الشرط: إن، وإذا، واذاما، وكل)، نحو: كل امرأة لي تدخل الدار فهي طالق، (وكلما، ومتى، ومتى ما، ففيها تنحل اليمين ‌إذا ‌وجد ‌الشرط ‌مرة إلا في: كلما؛ فإنها تنحل بعد الثلاث)، المراد بانحلال اليمين: بطلان اليمين ببطلان التعليق.
(كتاب الطلاق ، ‌‌باب الحلف بالطلاق (3/ 78) دار الوراق - عمان)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب