سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-480 Fatwa no: 1447-480

نذر کے انعقاد کے لیے صرف نیت کافی نہیں بلکہ الفاظ ضروری ہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون کی کم سن بیٹی کے گلے میں اچانک کوئی چیز پھنس گئی، جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، اس گھبراہٹ کے عالم میں ماں کے ذہن میں یہ خیال آیا (زبان سے کچھ ادا نہیں کیا) کہ اگر میری بیٹی کی جان بچ گئی اور گلے سے یہ چیز آسانی سے نکل گئی تو میں اپنے سونے کے ہار کے ساتھ لگے ہوئے سکہ نما حصے کو فی سبیل اللہ ،اللہ کی راہ میں دے دوں گی،اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ چیز آسانی سے نکل گئی اور بچی کو کوئی نقصان نہیں ہوا،اب درج ذیل امور کے بارے میں شرعی راہنمائی مطلوب ہے: 1 ۔کیا ماں کی محض ذہن میں یہ بات آنے سے (بغیر زبان سے کہے) نذر کے حکم میں آتی ہے؟ اگر ہاں، تو کیا اس نذر کو پورا کرنا لازم ہے؟ 2 ۔اب وہ ہار بمعہ سکہ نما حصہ فروخت کیا جا چکا ہے، تو کیا اس سکہ نما حصے کی مالیت فی سبیل اللہ دینا کافی ہوگی؟ 3۔اگر قیمت دینا کافی ہے، تو اس سکہ نما حصے کی مالیت کا شرعی طور پر اندازہ کس طرح لگایا جائے؟ یعنی کیا فروخت کے وقت کل وزن اور قیمت سے تناسب نکالا جائے؟یا موجودہ سونے کے نرخ سے اندازہ لگایا جائے؟مہربانی فرما کر شرعی حکم واضح فرمائیں تاکہ اطمینانِ قلب سے عمل کیا جا سکے۔جزاکم الله خيراً
جواب :

واضح رہے کہ نذر کے صحیح ہونے کے لیے زبان سے الفاظِ نذر کا ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ صرف نیت یا دل میں ارادہ کرنے سے نذر شرعاً منعقد نہیں ہوتی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ نذر کے الفاظ زبان سے ادا نہیں کیے گئے، اس لیے نذر منعقد ہی نہیں ہوئی، اور اسے پورا کرنا بھی  شرعاً لازم نہیں۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
أما الأول: فركن النذر هو ‌الصيغة ‌الدالة عليه وهو قوله: " لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك.
[كتاب النذر، (5/ 81): ط: دار الكتب العلمية] 
«الموسوعة الفقهية الكويتية»:
اعتبر الفقهاء في ‌صيغة ‌النذر أن تكون باللفظ ممن يتأتى منهم التعبير به، وأن يكون هذا اللفظ مشعرا بالالتزام بالمنذور، وذلك لأن المعول عليه في النذر هو اللفظ، إذ هو السبب الشرعي الناقل لذلك المندوب المنذور إلى الوجوب بالنذر، فلا يكفي في ذلك النية وحدها بدونه.
[النذر، (40/ 140): ط: دارالسلاسل - الكويت]
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:
وركنه عند الحنفية: هو ‌الصيغة ‌الدالة عليه مثل قول الشخص: (لله علي كذا) و (علي كذا) أو (علي نذر) أو (هذا هدي) أو (صدقة) أو (مالي صدقة) أو (ما أملك صدقة) ونحوها.
[تعريف النذر وركنه،(4/ 2552): ط: دار الفكر - سوريَّة - دمشق]

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب