سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-481 Fatwa no: 1447-481

نفاس کے چالیس دن کے بعد پندرہ دن سے پہلے دوبارہ خون آنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کے ہاں ولادت کے بعد اپنی عادت کے مطابق نفاس کا خون چالیس (40) دن پر بند ہوگیا، لیکن پانچ یا سات دن بعد (یعنی پندرہ دن مکمل ہونے سے پہلے) دوبارہ خون آنا شروع ہوگیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ دوبارہ آنے والا خون شرعاً حیض شمار ہوگا یا استحاضہ؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور کتبِ فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ خون چالیس دن مکمل ہونے کے بعد پندرہ دن پورے ہونے سے پہلے جاری ہوا ہے، اس لیے یہ خون استحاضہ کا خون شمار ہوگا،چونکہ استحاضہ کے ایام میں نماز اور روزہ معاف نہیں ہوتے، اس لیے ان دنوں میں جو نمازیں اور روزے ادا نہیں کیے گئے ہوں ان کی قضا کرنا لازم ہوگی ۔
الفتاوى العالمكيرية:
لو ‌رأت ‌الدم بعد أكثر الحيض والنفاس في أقل مدة الطهر فما رأت بعدالأكثر إن كانت مبتدأة وبعد العادة إن كانت معتادة استحاضة وكذا ما نقص عن أقل الحيض وكذا ما رأته الكبيرة جدا والصغيرة جدا. هكذا في المحيط. 
( الفصل الثاني في النفاس (1/ 37) دار الفكر)
اللباب في شرح الكتاب:
أن الطهر إذا كان أقل من خمسة عشر يومالا يفصل وهو كالدم المتوالي؛ لأنه طهر فاسد؛ فيكون بمنزلة الدم والأخذ بهذا القول أيسر هداية. قال في السراج: وكثير من المتأخرين أفتوا به، لأنه أسهل على المفتي والمستفتي، وفي الفتح وهو الأولى.ً
(‌‌باب الحيض (1/ 44) المكتبة العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب