سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-44 Fatwa no: 1447-44

امام سے پہلے رکوع میں جانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : میرا دوست نماز با جماعت پڑھ رہا تھا تو امام سے پہلے رکوع میں چلا گیا اور جب امام رکوع میں چلا گیا تو دوست رکوع سے قومہ کی طرف آیا ، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کی نماز اداء ہوئی یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ نماز باجماعت میں نماز کے ارکان میں امام کی اتباع فرض ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر شخص مذکور امام سے پہلے رکوع میں چلا گیا ہواور امام  کے رکوع میں آنے سے پہلےوہ  قومہ کی طرف آیا  ہوتو اس  کی نماز ادا  نہیں  ہوئی  کیونکہ اس نے رکوع میں امام  کی اتباع نہیں کی  بلکہ اس سے پہلے رکوع ادا کیا ہے ۔البتہ اگر امام کے رکوع میں جانے تک رکوع میں نہیں تھا اور امام کے ساتھ رکوع میں شریک کے بعد قومہ کی طرف آیا تو پھر اس کی نماز ہوگئی۔
کما فی رد المحتار علی الدرالمختار:
(قَوْلُهُ وَمُشَارَكَتِهِ فِي الْأَرْكَانِ) أَيْ فِي أَصْلِ فِعْلِهَا أَعَمُّ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ بِهَا مَعَهُ أَوْ بَعْدَهُ لَا قَبْلَهُ، إلَّا إذَا أَدْرَكَهُ إمَامُهُ فِيهَا، فَالْأَوَّلُ ظَاهِرٌ، وَالثَّانِي كَمَا لَوْ رَكَعَ إمَامُهُ وَرَفَعَ ثُمَّ رَكَعَ هُوَ فَيَصِحُّ، وَالثَّالِثُ عَكْسُهُ فَلَا يَصِحُّ إلَّا إذَا رَكَعَ وَبَقِيَ رَاكِعًا حَتَّى أَدْرَكَهُ إمَامُهُ، فَيَصِحُّ لِوُجُودِ الْمُتَابَعَةِ الَّتِي هِيَ حَقِيقَةُ الِاقْتِدَاءِ
(كتاب الصلاة،باب الامامة،ج2،ص339،ط:مكتبه رحمانيه)
وفي الفقه الاسلامي وادلته:
المتابعة بإحدى صورها الثلاث المذكورة تكون فرضاً في فروض الصلاة، وواجبة في الواجب، وسنة في السنة. فلو ترك الركوع مع الإمام بأن ركع قبله أو بعده، ولم يشاركه فيه، أو سجد قبل الإمام أو بعده ولم يشاركه في السجود، تلغى الركعة التي لم تتحقق فيها المتابعة، ويجب عليه قضاؤها بعد سلام الإمام وإلا بطلت صلاته.
(كتاب الصلاة،المبحث الاول:صلاة الجماعة واحكامها،ج2،ص213،ط:مكتبه رشيديه)
وفي الهندية:
وإن رفع المقتدي رأسه من السجدة الثانية قبل أن يضع الإمام جبهته على الأرض لا يجوز وكان عليه إعادة تلك السجدة ولو لم يعد تفسد صلاته. هكذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة.
(كتاب الصلاة،ألفصل السادس فيما يتابع الإمام وفيما لا يتابعه،ج1،ص191،ط: مكتبه رشيديه)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب