نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںاصول یہ ہے کہ شخصِ مذکور 10 ہزار روپے اور 3 تولہ سونے کی قیمت لگا کر اس کے مجموعہ قیمت سے 30 ہزار روپے قرض منہا کرے گا ، اگر باقی رقم ساڑھے 52 تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر ہو اور اس پر سال بھی گزرا ہو یعنی زکوۃ کے سال کے شروع اور آخر میں اس کی ملکیت میں نصاب کے بقدر یا اس سے زیادہ مالیت کی مذکورہ اشیاء (مثلاً سونا ، نقدی)موجود ہوں تو اس پر زکوۃ واجب ہے ورنہ نہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ مجموعہ سے قرض کو منہا کرنے کے بعد باقی رقم ساڑھے 52 تولہ چاندی کی قیمت سے زائد ہے اس لئے اس لئے اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔
یہاں قرض کو مجموعہ سے منہا کرنے پر ایک علمی اشکال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ فقہاءِ کرامؒ نے اصول بیان فرمایا ہے کہ جب کسی کے پاس مختلف قسم کے اموالِ زکوٰۃ ہوں (مثلاً سونا، چاندی، مالِ تجارت، مویشی وغیرہ) اور اس پر قرض بھی ہو، تو قرض کو "أیسرها قضاءً" یعنی جس مال سے ادائیگی آسان ہو، اس کی طرف منسوب کیا جائے گا،اگر اس اصول کو یہاں لاگو کیا جائے، تو 30 ہزار روپے کا قرض نقد رقم (10 ہزار) کی طرف منسوب کیا جائے گا، جس سے پوری نقدی کالعدم ہو جائے گی، یوں صرف تین تولہ سونا باقی بچے گا، جو کہ شرعی نصاب (ساڑھے سات تولہ) سے کم ہے، لہٰذا بظاہر زکوٰۃ واجب نہیں ہونی چاہیے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں فقہاء کرامؒ نے اس مسئلے کی وضاحت کی ہے وہاں "نُصُب" کی شرط عائد کی گئی ہے( وإن كان له نصب يصرف الدين إلى أيسرها قضاء)، یعنی مالکِ مال کے پاس مختلف اقسام کے اموالِ زکوٰۃ کے نصاب موجود ہوں ، جیسے کہ سونا، چاندی، جانوروں کے مختلف نصاب وغیرہ۔جبکہ نقد روپیہ ، پیسہ بذاتِ خود کوئی مستقل نصاب نہیں رکھتا بلکہ فلوس ہیں جنہیں حکماً ثمن ِ عرفی ہونے کی وجہ سے نقود کے حکم میں قرار دیکر سونا چاندی کے نصاب میں شامل کیا جاتا ہے چنانچہ پیسوں کا الگ سے کوئی اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ روپے اور سونے کے مجموعہ کو ملاکر ایک ہی نصاب سمجھا جائے گا ، اس مجموعی مالیت سے قرض کی رقم منہا کر کے اگر باقی رقم نصاب کے برابر یا اس سے زائد ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
نیز اگر روپے کو سونے کے ساتھ ملحق نہ کیا جائے، بلکہ بذاتِ خود نصاب سمجھا جائے تب بھی چونکہ معنیٰ اور حکم کے اعتبار سے تمام نقود ایک ہی جنس کے تحت آتے ہیں، اس لیے سونا اور روپے کو ایک ہی نصاب تصور کیا جائے گا اور قرض کی رقم مجموعی مال کی طرف منسوب کی جائے گی ،جیسا کہ علامہ سرخسیؒ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے:
"وهو أن ضم النقود بعضها إلى بعض في تكميل النصاب باعتبار معنى المالية فإن الذهب والفضة، وإن كانا جنسين صورة ففي معنى المالية هما جنس واحد على معنى أنه تقوم الأموال بهما، وأنه لا مقصود فيهما سوى أنهما قيم الأشياء وبهما تعرف خيرة الأموال ومقاديرها ووجوب الزكاة باعتبار المالية قال الله تعالى:{في أموالهم حق معلوم}[المعارج: 24]{للسائل والمحروم} [المعارج: 25]"
لہذا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق قرض کو نقد کی طرف پھیرنے کے بجائے مجموعہ قیمت کی طرف پھیرا جائے گا ، اور اگر مجموعہ سے قرض منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ رقم اگر نصاب کے بقدر ہو تو اس کی زکوۃ واجب ہوگی ور نہ نہیں ۔
المبسوط للسرخسي:
وهو أن ضم النقود بعضها إلى بعض في تكميل النصاب باعتبار معنى المالية فإن الذهب والفضة، وإن كانا جنسين صورة ففي معنى المالية هما جنس واحد على معنى أنه تقوم الأموال بهما، وأنه لا مقصود فيهما سوى أنهما قيم الأشياء وبهما تعرف خيرة الأموال ومقاديرها ووجوب الزكاة باعتبار المالية قال الله تعالى: {في أموالهم حق معلوم} [المعارج: 24] {للسائل والمحروم} [المعارج: 25]
(كتاب نوادر الزكاة (3/ 20) دار المعرفة - بيروت، لبنان)
المحيط البرهاني (2/ 296):
قال محمد رحمه الله في «الجامع» : أيضاً رجل له دراهم ودنانير، وعروض التجارة وسوائم، ومال قنية، وعقار، ودين مستغرق، فلا زكاة عليه، وقد مر هذا، وإن استغرق الدين بعض هذه الأموال، ذكر في عامة نسخ «الجامع» : أنه يصرف الدين إلى نصاب الدراهم والدنانير، ثم إلى مال التجارة، وهكذا ذكر في «النوادر» ، وذكر في بعض نسخ «الجامع» : أنه يصرف الدين إلى الدراهم والدنانير، وأموال التجارة، وسوى بين الدراهم والدنانير وأموال التجارة والأول أصح.
يجب أن يعلم أنه إذا كان للمديون صنوف من الأموال المختلفة، والدين مستغرق بعض هذه الأموال، فالدين أولاً يصرف إلى الدراهم والدنانير إما لأن قضاء الدين استبدال من حيث إن الديون يقضى بأمثالها، والقضاء بالمثل مبادلة، وكان صرفه إلى مال معد للاستبدال أولى، والدراهم والدنانير معدة للاستبدال دون غيرهما، وإما لأن الدراهم والدنانير أيسر المالين قضاء، والدين أبداً يصرف إلى أيسر المالين قضاء، فإن فضل شيء من الدين يصرف إلى عروض التجارة دون السائمة، إما؛ لأن قضاء الدين من عروض التجارة أيسر من قضائها من السائمة؛ لأن السائمة معدة للإمساك بخلاف عروض التجارة،
(الفصل العاشر في بيان ما يمنع وجوب الزكاة (2/ 296) دار الكتب العلمية)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:
وإن كان له نصب يصرف الدين إلى أيسرها قضاء. مثاله: إذا كان له دراهم ودنانير، وعروض للتجارة وسوائم من الإبل، ومن البقر والغنم، وعليه دين فإن كان يستغرق الجميع فلا زكاة عليه، وإن لم يستغرق صرف إلى الدراهم والدنانير أولا إذ القضاء منهما أيسر؛ لأنه لا يحتاج إلى بيعهما؛ ولأنه لا تتعلق المصلحة بعينهما؛ ولأنهما لقضاء الحوائج، وقضاء الدين منها؛ ولأن للقاضي أن يقضي الدين منهما جبرا، وكذا للغريم أن يأخذ منهما إذا ظفر بهما، وهما من جنس حقه فإن فضل عنهما الدين أو لم يكن له منهما شيء صرف إلى العروض؛ لأنها عرضة للبيع بخلاف السوائم؛ لأنها للنسل والدر والقنية فإن لم يكن له عروض أو فضل الدين عنها صرف إلى السوائم»
(كتاب الزكوة،شروط وجوبها (1/ 255) صورتها دار الكتاب الإسلامي)
النهاية في شرح الهداية :
(وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة وهذا بالإجماع). وحاصل مسائل الضم، أن عروض التجارة يضم بعضها إلى بعضه بالقيمة، وإن اختلفت أجناسها، وكذا تضم حتى إلى النقدين] بالإجماع والسوائم من مختلفي الجنس مثل الإبل، والبقر، والغنم، لا يضم بعضها إلى بعض بالإجماع، والنقدان يضم أحدهما إلى الآخر في تكميل النصاب عندنا
(ضم قيمة العروض (4/ 235) (5/ 16 بترقيم الشاملة آليا))
فتح القدير للكمال بن الهمام :
«(قوله وتضم إلخ) حاصله أن عروض التجارة يضم بعضها إلى بعض بالقيمة وإن اختلفت أجناسها، وكذا تضم هي إلى النقدين بالإجماع، والسوائم المختلفة الجنس لا تضم بالإجماع كالإبل والغنم، والنقدان يضم أحدهما إلى الآخر في تكميل النصاب عندنا خلافا للشافعي رحمه الله.
(فصل في العروض (2/ 221) دار الفكر، بيروت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ثم اختلف أصحابنا في كيفية الضم فقال أبو حنيفة: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة .
(فصل مقدار الواجب في زكاة الذهب (2/ 19) دار الكتب العلمية)
اللباب في شرح الكتاب:
(ومن كان عليه دين يحيط بماله) أو يبقى منه دون نصاب (فلا زكاة عليه) ؛ لأنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوماً كالماء المستحق بالعيش. هداية. وإن كان ماله أكثر من الدين زكى الفاضل إذا بلغ نصاباً) لفراغه عن الحاجة .
(كتاب الزكوة(1/ 137) المكتبة العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔