سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-483 Fatwa no: 1447-483

نکاح ِ فضولی کے بعد اطلاع ملتے ہی رد کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بالغ لڑکے کا نکاح اس کے باپ نے لڑکے کے غیر موجودگی میں کرایا، جب لڑکے کو پتہ چلا تو اس نے کہا: "مجھے قبول نہیں ہے"۔ لیکن تقریباً ایک مہینے بعد اس نے کہا کہ میں نے دل سے قبول کر لیا تھا، صرف زبان سے انکار کیا تھا ،اس نکاح کو تقریباً دو سال ہو چکے ہیں، دونوں ساتھ رہ رہے ہیں اور ایک بیٹی بھی ہے۔ اس نے کہا کہ اس مسئلے میں ایک مفتی صاحب سے پوچھا تھا، انہوں نے جواب دیا تھا کہ نکاح درست ہے، لیکن میرا دل اب بھی مطمئن نہیں ہے، لہٰذا اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی جواب عنایت فرمائیں ۔
جواب :

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست ہے کہ والد نے بالغ بیٹے کی غیر موجود گی میں اس کی  اجازت کے بغیر خود نکاح کر ایاتھا  اور بیٹے نے نکاح کی اطلاع ملتے ہی یہ کہا کہ ’’مجھے قبول نہیں ہے‘‘، تو ایسی صورت میں چونکہ  والد کا کیا ہوا نکاح بیٹے کی اجازت پر موقوف تھا، اور بیٹے کے زبانی انکار کی وجہ سے وہ نکاح منعقد نہیں ہوا، زبانی انکار کے ساتھ   دل میں قبول کرنے کا شرعاً اعتبار نہیں۔
لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ جلد از جلد شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کریں اور نکاح ہونے تک ایک   دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، نیزاب تک بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنے پر صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کریں ۔ 
الهداية في شرح بداية المبتدي:
قال: "وتزويج العبد والأمة بغير إذن مولاهما موقوف فإن أجازه المولى جاز وإن رده بطل وكذلك لو زوج ‌رجل ‌امرأة ‌بغير ‌رضاها أو رجلا بغير رضاه" وهذا عندنا فإن كل عقد صدر من الفضولي وله مجيز انعقد موقوفا على الإجازة وقال الشافعي رحمه الله تصرفات الفضولي كلها باطلة .
(‌‌فصل في الوكالة بالنكاح وغيرها  (1/ 197)ط: دار احياء التراث العربي)
المحيط البرهاني:
وفي «المنتقى» : ابن سماعة عن محمد رحمه الله: رجل زوج رجلاً امرأة بغير أمره، ‌فبلغه ‌الخبر فقال: هي طالق لم يكن إجازة، وكان رداً.
(‌‌الفصل الثالث: فيما يكون إقراراً بالنكاح (3/ 12) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب