نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست ہے کہ والد نے بالغ بیٹے کی غیر موجود گی میں اس کی اجازت کے بغیر خود نکاح کر ایاتھا اور بیٹے نے نکاح کی اطلاع ملتے ہی یہ کہا کہ ’’مجھے قبول نہیں ہے‘‘، تو ایسی صورت میں چونکہ والد کا کیا ہوا نکاح بیٹے کی اجازت پر موقوف تھا، اور بیٹے کے زبانی انکار کی وجہ سے وہ نکاح منعقد نہیں ہوا، زبانی انکار کے ساتھ دل میں قبول کرنے کا شرعاً اعتبار نہیں۔
لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ جلد از جلد شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کریں اور نکاح ہونے تک ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، نیزاب تک بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنے پر صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کریں ۔
الهداية في شرح بداية المبتدي:
قال: "وتزويج العبد والأمة بغير إذن مولاهما موقوف فإن أجازه المولى جاز وإن رده بطل وكذلك لو زوج رجل امرأة بغير رضاها أو رجلا بغير رضاه" وهذا عندنا فإن كل عقد صدر من الفضولي وله مجيز انعقد موقوفا على الإجازة وقال الشافعي رحمه الله تصرفات الفضولي كلها باطلة .
(فصل في الوكالة بالنكاح وغيرها (1/ 197)ط: دار احياء التراث العربي)
المحيط البرهاني:
وفي «المنتقى» : ابن سماعة عن محمد رحمه الله: رجل زوج رجلاً امرأة بغير أمره، فبلغه الخبر فقال: هي طالق لم يكن إجازة، وكان رداً.
(الفصل الثالث: فيما يكون إقراراً بالنكاح (3/ 12) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔