سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-484 Fatwa no: 1447-484

نیچے قرآن مجید پڑھنے والے کے پاس چارپائی پر بیٹھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلےکے بارے میں کہ ہمارے کمرے میں ہیٹر لگا ہوتا ہے اور بعض اوقات سردی کی وجہ سے ہیٹر کے سامنے فرش پر بیٹھ کر تلاوتِ قرآن کرنی پڑتی ہے، جبکہ چارپائیوں پر دوسرے اساتذہ بیٹھے ہوتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں اُن کا اوپر بیٹھنا قرآن کی بے ادبی میں شمار ہوگا؟رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
جواب :

واضح رہے کہ بے آدبی کا درومدار عرف پر ہوتا ہے، اور ہمارے عرف میں اگر قرآن مجید نیچے رکھا ہوا ہو تو اس کے اوپر چارپائی پر بیٹھنا قرآن کی بے ادبی سمجھا جاتا ہے، اس لیے ایسی صورت میں چارپائی پر بیٹھنے سے اجتناب کرنا چاہیئے، البتہ اگر کوئی شخص زبانی تلاوت کر رہا ہو اور نیچے قرآن مجید موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں اونچی جگہ پر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
حانوت أو تابوت فيه كتب فالأدب ‌أن ‌لا ‌يضع ‌الثياب فوقه .
(ما يمنعه الحيض (1/ 213) دار الكتاب الإسلامي)
الفتاوى العالمكيرية :
التوسد بالكتاب الذي فيه الأخبار لا يجوز إلا على نية الحفظ له، كذا في الملتقط. ‌وضع ‌المصحف ‌تحت ‌رأسه في السفر للحفظ لا بأس به وبغير الحفظ يكره، كذا في خزانة الفتاوى.
(الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف (5/ 322) دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب