نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں نئی گاڑی کی خریداری کی خوشی اور خیر و برکت کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے’’بسم الله‘‘ پڑھ كر گاڑی کے سامنے بکری ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہےبشرطیکہ اس کو لازم نہ سمجھا جائے ، البتہ ذبح کے بعد مزار میں جا کر گوشت پکانا اور تقسیم کرنا بدعت اور بدعقیدگی کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے بہتر یہ تھا کہ مزار میں لے جانے کی بجائے گوشت براہِ راست عام ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:
قال في الدر واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو باطل وحرام اهـ قال في البحر لوجوه منها أنه نذر لمخلوق ولا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك ومنها أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى كفر اللهم إلا أن يقول يا لله إني نذرت لك أن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة أو الفقراء الذين بباب الإمام الشافعي رضي الله عنه أو الإمام الليث أو اشترى حصرا لمساجد هم أو زيتا لوقودها أو دراهم لمن يقوم بشعائرها إلى غير ذلك مما يكون فيه نفع للفقراء والنذر لله عز وجل وذكر الشيخ إنما هو بيان لمحل صرف النذر لمستحقيه القاطنين برباطه أو مسجده فيجوز بهذا الاعتبار إذ مصرف النذر الفقراء وقد وجد.
(باب ما يلزم الوفاء به،(ص693) دار الكتب العلمية بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔