سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-485 Fatwa no: 1447-485

نئی گاڑی کی خوشی میں گاڑی کے سامنے جانور ذبح کرنا اور مزار میں پکاکر تقسیم کرنےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے نئی گاڑی خریدی اس کی خوشی اور خیر و برکت کی نیت سے بکرا گاڑی کے آگے ذبح کیا بطور صدقہ کے اور پھر ساتھ ہی چند قدموں پہ واقع مزار پہ پکا کے تقسیم کر دیا اور یہ کہا کہ ہماری نیت اللہ کی رضا کا حصول ہے ،قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں شکریہ ۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں نئی گاڑی کی خریداری کی خوشی اور خیر و برکت کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے’’بسم الله‘‘ پڑھ كر  گاڑی کے سامنے بکری ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہےبشرطیکہ اس کو لازم نہ سمجھا جائے ، البتہ ذبح کے بعد مزار میں جا کر گوشت پکانا اور تقسیم کرنا بدعت اور بدعقیدگی کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے بہتر یہ تھا کہ مزار میں لے جانے کی بجائے گوشت براہِ راست عام ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:
قال في الدر واعلم أن النذر ‌الذي ‌يقع ‌للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو باطل وحرام اهـ قال في البحر لوجوه منها أنه نذر لمخلوق ولا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك ومنها أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى كفر اللهم إلا أن يقول يا لله إني نذرت لك أن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة أو الفقراء الذين بباب الإمام الشافعي رضي الله عنه أو الإمام الليث أو اشترى حصرا لمساجد هم أو زيتا لوقودها أو دراهم لمن يقوم بشعائرها إلى غير ذلك مما يكون فيه نفع للفقراء والنذر لله عز وجل وذكر الشيخ إنما هو بيان لمحل صرف النذر لمستحقيه القاطنين برباطه أو مسجده فيجوز بهذا الاعتبار إذ مصرف النذر الفقراء وقد وجد.
 (‌‌باب ما يلزم الوفاء به،(ص693) دار الكتب العلمية بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب