نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں(1) ۔۔۔مرحوم عبد الحق چونکہ اپنے والدین (یعنی آپ کےدادا اور دادی) کی زندگی میں وفات پا چکے تھے، اس لیے ان کا یا ان کی اولاد کا دادا دادی کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ۔
(2)۔۔۔ والدہ مرحومہ کے ترکہ میں (خواہ وہ پہلے شوہر سے ملا ہو،یا دوسرے شوہر سے، یا کسی اور ذریعہ سے ان کی ملکیت میں آیا ہو) اُن کی تمام اولاد شریک ہوگی، چاہے وہ پہلے شوہر سے ہو یا دوسرے شوہر سے۔ شریعت مطہرہ کے مطابق بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دو گنا حصہ ملتا ہے، لہٰذا ہر بیٹا دو حصے کا، اور ہر بیٹی ایک حصے کی حق دار ہوگی۔
حاشية ابن عابدين:
بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث .
(كتاب الفرائض (6/ 769) دار الفكر - بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔