سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-486 Fatwa no: 1447-486

والدین کی زندگی میں فوت شده بیٹے کا میراث میں حصہ نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :
(1)۔۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ميرے والد محترم تين بھائی ہیں (ٹھیکدار محمد یاسین ،عبد الحق ، شبیر احمد ) اول الذکر دونوں دنیا سے پردہ فرماگئے جبکہ شبیر احمد حیات ہے ، محترم عبد الحق صاحب والد مرحوم کی زندگی میں ہی وفات پاگئےتھے ، اب محترم چچا عبد الحق کی اولاد کے وارث ہونے کے متعلق پوچھنا ہے کہ دادا جان ذاتی طور پر کسی چیز کے مالک نہیں ، سب کچھ دادی اماں کے نام تھا ، جب چچا کا انتقال ہوا ، دادا ، دادی دونوں بقید حیات تھے ، آیا اب چچا عبد الحق مرحوم کی اولاد دادی جان یاداداجان کی وراثت میں (بالفرض اگر کچھ ہے) استحقاق رکھتے ہیں یا نہیں ، اگر رکھتے ہیں تو کس حد تک ؟ (2)۔۔۔میرے والد محترم نے چچا مرحوم کی اہلیہ سے بعد ازاں نکاح کیا (چچا کی وفات کے بعد )ہم دو بہن بھائی انہی سے ہیں ، اب پوچھنا یہ ہے کہ میری والدہ والدہ محترمہ کو اگر پہلے شوہر سے کچھ ملتاہے تو ہم دونوں بہن بھائی بھی اس میں حقدار ہیں یا نہیں ؟ اگر ہیں تو کس حد تک ؟شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
جواب :

(1) ۔۔۔مرحوم عبد الحق چونکہ اپنے والدین (یعنی آپ کےدادا اور دادی) کی زندگی میں وفات پا چکے تھے، اس لیے ان کا یا ان کی اولاد کا دادا دادی کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ۔
(2)۔۔۔ والدہ مرحومہ کے ترکہ میں (خواہ وہ پہلے شوہر سے ملا ہو،یا  دوسرے شوہر سے، یا کسی اور ذریعہ سے ان کی ملکیت میں آیا ہو) اُن کی تمام اولاد شریک ہوگی، چاہے وہ پہلے شوہر سے ہو یا دوسرے شوہر سے۔ شریعت مطہرہ کے مطابق بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دو گنا حصہ ملتا ہے، لہٰذا ہر بیٹا دو حصے کا، اور ہر بیٹی ایک حصے کی حق دار ہوگی۔ 
حاشية ابن عابدين:
بيانه أن شرط الإرث ‌وجود ‌الوارث حيا عند موت المورث .
 (‌‌كتاب الفرائض (6/ 769) دار الفكر - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب