نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جب تک ان حوضوں کے پانی کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو، صرف شک یا وہم کی بنیاد پر اس پانی کو نجس قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ شرعاً وہ پانی پاک شمار ہوگا۔ فقہاء کرام نے صراحت فرمائی ہے: (حوض تملأ منه الصغار، والعبيد بالأيدي الدنسة، والجرار الوسخة يجوز الوضوء منه ما لم يعلم به نجاسة) یعنی وہ حوض جس سے بچے، خادم، گندے ہاتھوں یا گندے برتنوں کے ذریعے پانی نکالتے ہوں، جب تک نجاست کا یقینی علم نہ ہو، اس سے وضو کرنا جائز ہےلہذا جب پاک پانی موجود ہو اور اس کا استعمال ممکن ہو، تو تیمم کرنا جائز نہیں، بلکہ اسی پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنا شرعاً ضروری ہے، اگرچہ دل مطمئن نہ ہو، کیونکہ ایسی بے اطمینانی محض شیطانی وسوسہ ہے، جس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ۔
الأشباه والنظائر - ابن نجيم:
شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة؛ ولذا قال محمد رحمه الله: حوض تملأ منه الصغار، والعبيد بالأيدي الدنسة، والجرار الوسخة يجوز الوضوء منه ما لم يعلم به نجاسة؛ ولذا أفتوا بطهارة طين الطرقات، وفي الملتقط فأرة في الكوز لا يدري أنها كانت في الجرة لا يقضي بفساد الجرة بالشك، وفي خزانة الأكمل رأى في ثوبه قذرا وقد صلى فيه ولا يدري متى أصابه يعيدها من آخر حدث أحدثه وفي المني آخر رقدة (انتهى) ..
(الأصل بقاء ما كان على ما كان (ص49) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔