سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-487 Fatwa no: 1447-487

وسوسے کی بنیاد پر پاک پانی کو ترک کر کے تیمم کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
سوال یہ ہے کہ میرے والد سعودی عرب میں رہتے ہیں، وہاں بعض صحرائی حوضوں میں پانی جمع ہوتا ہے جو مہینوں رہتا ہے، اس میں غیر مسلم ہاتھ دھوتے ہیں، جانور بھی پیتے ہیں، ناپاکی کا یقین نہیں مگر دل مطمئن نہیں ہوتا اور قریب کوئی دوسرا پانی بھی نہیں ہوتا ، ایسی صورت میں کیا تیمم کرنا جائز ہوگا؟
جواب :

واضح رہے کہ جب تک ان حوضوں کے پانی کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو، صرف شک یا وہم کی بنیاد پر اس پانی کو نجس قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ شرعاً وہ پانی پاک شمار ہوگا۔ فقہاء کرام نے صراحت فرمائی ہے:  (حوض تملأ منه الصغار، والعبيد بالأيدي الدنسة، والجرار الوسخة يجوز الوضوء منه ما لم يعلم به نجاسة)  یعنی وہ حوض جس سے بچے، خادم، گندے ہاتھوں یا گندے برتنوں کے ذریعے پانی نکالتے ہوں، جب تک نجاست کا یقینی علم نہ ہو، اس سے وضو کرنا جائز ہےلہذا  جب پاک پانی موجود ہو اور اس کا استعمال ممکن ہو، تو تیمم کرنا جائز نہیں، بلکہ اسی پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنا شرعاً ضروری ہے، اگرچہ دل مطمئن نہ ہو، کیونکہ ایسی بے اطمینانی محض شیطانی وسوسہ ہے، جس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ۔ 
الأشباه والنظائر - ابن نجيم:
‌شك ‌في ‌وجود ‌النجس فالأصل بقاء الطهارة؛ ولذا قال محمد رحمه الله: حوض تملأ منه الصغار، والعبيد بالأيدي الدنسة، والجرار الوسخة يجوز الوضوء منه ما لم يعلم به نجاسة؛ ولذا أفتوا بطهارة طين الطرقات، وفي الملتقط فأرة في الكوز لا يدري أنها كانت في الجرة لا يقضي بفساد الجرة بالشك، وفي خزانة الأكمل رأى في ثوبه قذرا وقد صلى فيه ولا يدري متى أصابه يعيدها من آخر حدث أحدثه وفي المني آخر رقدة (انتهى) ..
(‌‌الأصل بقاء ما كان على ما كان (ص49) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب