نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں چونکہ خریدار کان کے مالک کو پیشگی رقم دے کر صرف یہ طے کرتا ہے کہ جب پتھرنکل کر زمین پر آ جائے گا تو مناسب نرخ لگا کر فی ٹن کے حساب سے خریداری کی جائے گی، اس لیے یہ باقاعدہ عقدِ بیع نہیں بلکہ وعدۂ بیع ہے، شرعاً بیع اُس وقت معتبر ہوگی جب پتھر زمین پر آ جائے، مالک حوالہ کرنے پر آمادہ ہو اور دونوں فریق سابقہ وعدے کی بنیاد پر متعین نرخ پر باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ عقدِ بیع انجام دیں ،لہٰذا فریقین کے لیے اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ کوئی اور شرعی ممانعت یا خرابی نہ پائی جائے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ وعدۂ بیع کے وقت دی جانے والی ایڈوانس رقم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا یہ امانت ہے، قرض ہے یا ثمن؟ چونکہ بیع ابھی وجود میں نہیں آئی، اس لیے فقہی لحاظ سے اسے آئندہ خریدی جانے والی چیز کا ثمن قرار دینا ممکن نہیں، اصولی طور پر یہ رقم امانت ہوتی ہے، جو بیع کے انعقاد پر ثمن بن سکتی ہے، لیکن چونکہ فریقین کی نیت ابتدا ء سے ہی اس رقم کے استعمال اور اس میں تصرف کی ہوتی ہےاس لیے خلط و استعمال کی وجہ سے یہ رقم قرض بن جاتی ہے جس میں بائع کو تصرف کی اجازت ہوتی ہے اور اس کی ضمان بھی اس کے ذمہ لازم آتی ہے،اگر اسے امانت قرار دیا جائے تو بائع کے لیے اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوگا، اور نہ ہی وہ اس کے تلف ہونے کا ضامن ہوگا، اس لیے فقہی طور پر اسے مجبوراً قرض شمار کیا جاتا ہےتاکہ معاملہ شرعی اصولوں کے مطابق رہے اور عملی صورتِ حال سے ہم آہنگ بھی ہو۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة ، احکام البیع بلتعاطی والاستجرار ،(ص1/66)مکتبه دار العلوم كراچي ):
وأما النوع الثاني من الاستجرار، فهو أن المشتري يدفع إلى البائع مبلغا مقدما، ثم يستجر منه الأشياء، وتقع المحاسبة بعد أخذ مجموعة من الأشياء في نهاية الشهر أو في نهاية السنة مثلا. وإن هذا النوع من الاستجرار فيه كلام من ناحيتين: الأولى..... والناحية الثانية: هي حيثية المبلغ المدفوع مقدما، هل يعتبر هذا المبلغ ثمنا مقدما؟ أو أمانة في يد البائع؟ أو قرضا عليه؟. أما كونه ثمنا مقدما، فلا يصح إلا بشرطين:..... والذي يشاهد في الاستجرار أنه لا يوجد فيه هذان الشرطان.... وإن قلنا: إن المبلغ المدفوع أمانة في يد البائع، وكلما أخذ المشتري منه شيئا، صار جزء من المبلغ ثمنا للمأخوذ. فينبغي أن يكون المبلغ مودعا عند البائع كما هو، ولا يجوز له أن يصرفه في حاجة نفسه، لأن الأمانة لايجوز التصرف فيها وهذا، على كونه مشكلا، بل متعذرا من الناحية العملية، خلاف ما هو متعارف في الاستجرار، فإن الباعة في الاستجرار لا يحتفظون بالمبلغ المدفوع إليهم مقدما، وإنما يسجلون قدره في حساب المعطي، ثم يتصرفون فيه كيفما شاؤوا.
وإن قلنا: إن المبلغ المدفوع قرض أقرضه المشتري إلى البائع، فحل له استعماله، فالإشكال في أنه قرض مشروط فيه البيع اللاحق، فإن المشتري لم يقرض البائع على وجه الصلة، وإنما أقرضه ليقع به البيع في وقت لاحق، فصار البيع مشروطا في عقد القرض، وهذا شرط يخالف مقتضى عقد القرض، فينبغي أن يكون فاسدا. ولم أر أحدا من الذين تكلموا عن الاستجرار من تعرض لهذا الإشكال. والذي يظهر لي أن هذا المبلغ دفعة تحت الحساب، وهي وإن كانت قرضا في الاصطلاح الفقهي، من حيث إنه يجوز للمدفوع له أن يصرفها في حوائج نفسه، ومن حيث كونها مضمونة عليه، ولكنها قرض يجوز فيه شرط البيع اللاحق، لكونه شرطا متعارفا، فإن الدفعات تحت الحساب لا يقصد بها الإقراض، وإنما يقصد بها تفريغ ذمة المشتري عن أداء الثمن عند البيع اللاحق وأن يتيسر له شراء الحاجات دون أن يتكلف نقد الثمن في كل مرة.فهذا قرض تعورف فيه شرط البيع. والشرط كلما كان متعارفا فإنه يجوز عند الحنفية،وإن كان مخالفا لمقتضى العقد،كما في شراء النعل بشرط أن يحذوه البائع.
ومن هنا نرى الفقهاء الذين أجازوا الاستجرار لم يفرقوا بين دفع الثمن مقدما، وبين دفعه مؤخرا. قال ابن عابدين رحمه الله تعالى: (قال في الولوالجية: دفع دراهم إلى خباز، فقال: اشتريت منك مئة منّ من خبز، وجعل يأخذ كل يوم خمسة أمناء، فالبيع فاسد وما أكل فهو مكروه، لأنه اشترى خبزا غير مشار إليه، فكان المبيع مجهولا. ولو أعطاه الدراهم وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمناء، ولم يقل في الابتداء: اشتريت منك، يجوز. وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء، لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي، والآن المبيع معلوم، فينعقد البيع صحيحا. اهـ. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم، فإذا انعقد بيعا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله.
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔