نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسوال میں ذکر کردہ "وقف کی بنیاد پر بنائی گئی" کمیٹی" شرعی اعتبار سے درست اور جائز ہے، اس میں بظاہر کوئی ایسی خرابی نہیں جو شرعاً ممنوع ہو، تاہم چونکہ یہ کمیٹی "وقف" کے اصول پر قائم کی گئی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اس کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے، تاکہ شرعی حدود و ضوابط کی مکمل رعایت ہو، اس لیے ذیل میں اس کمیٹی کو وقف کی بنیاد پر قائم کرنے کا شرعی طریقہ درج کیا جاتا ہے: وقف کی بنیاد پر مذکورہ "کمیٹی" قائم کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ابتدا میں کوئی ایک فرد یا چند افراد باہمی مشاورت سے کچھ رقم اس نیت سے جمع کریں کہ یہ رقم اہلِ میت کی ضروریات کے لیے باقاعدہ وقف ہواور اس کے منافع سے اہلِ میت کے ساتھ تعاون کیا جائے،اس طریقے سے ایک مستقل وقف فنڈ وجود میں آجائے گا ،اس کے بعد جو بھی شخص اس فنڈ کو چندہ دے گا وہ رقم اس کی ملکیت سے نکل کر فنڈ کی ملکیت شمار ہوگی اور اس رقم پر بھی وقف کے احکام جاری ہوں گے ،چنانچہ اس رقم میں زکوٰۃ اور میراث کے احکام جاری نہیں ہوں گے اور کسی کو اپنی رقم واپس لینے کا اختیار بھی نہیں ہوگا اور اس فنڈ کو اہل ِ میت کی ضروریات میں باہمی مشورے اور طے شدہ ضابطہ سے خرچ کرتے رہیں اور وقف کنندگان بوقتِ وقف یہ شرط بھی لگا سکتے ہیں کہ جو شخص اس وقف فنڈ کو ہر ماہ اتنی رقم دے گا ، اس کو یا اس کے متعلقین کو بوقت ِ ضرورت کفن ودفن کے اخراجات کے لئے اتنی رقم اس فنڈ سے دی جائے گی ، اسی طرح شروع میں خریدے گئے برتن بھی اس فنڈ کی ملکیت میں شامل کیے جا سکتے ہیں ،البتہ یہ بات واضح رہے کہ شروع میں اصل وقف کردہ جو بھی رقم ہو اس کی مالیت کو ہمیشہ محفوظ رکھنا ضروری ہوگا اس کو خرچ کرنا جائز نہیں ہوگا ۔
تاہم اس فنڈ سے اہل میت کے طعام اور دیگر ناجائز بدعات ورسومات کے لئے تعاون کرنا جائز نہیں ہوگا اور ورثاء کو جو رقم دی جائے اس کا مقصد ان کا مالی تعاون ہو ، مروجہ رسوم وبدعات کی تکمیل کے لیے اس رقم کو مہیاکرنا مقصود نہ ہو اور چندہ وصول کرنےکے لئے ایسا کوئی طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے چندہ دینے والے پر جبر ہو، بلکہ جو اپنی خوشی سے ممبر بننا چاہے صرف اسے ممبر بنایاجائے ، نیز منتظمین میں کسی مستند عالمِ دین کو بھی شامل کیا جائے، جو وقف کے مسائل سے واقف ہو، تاکہ وقف اور دیگر شرعی معاملات میں رہنمائی حاصل ہوتی رہے۔
الدر المختار مع رد المحتار (4/ 363):
(و) كما صح أيضا وقف كل (منقول) قصدا (فيه تعامل) للناس (كفأس وقدوم) بل (ودراهم ودنانير) .......(وقدر وجنازة) وثيابها ومصحف وكتب لأن التعامل يترك به القياس لحديث «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن» بخلاف ما لا تعامل فيه كثياب، ومتاع وهذا قول محمد وعليه الفتوى.
(قوله: ومتاع) ما يتمتع به فهو عطف عام على خاص، فيشمل ما يستعمل في البيت من أثاث المنزل كفراش وبساط وحصير لغير مسجد والأواني والقدور. نعم تعورف وقف الأواني من النحاس ونص المتقدمون على وقف الأواني والقدور المحتاج إليها في غسل الموتى .
(مطلب في وقف المنقول قصدا (4/ 363)ط: دار الفكر - بيروت)
فتح القدير للكمال بن الهمام:
ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم لقوله صلى الله عليه وسلم «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم.
(كتاب الجنائز ، فصل في الدفن (2/ 142)ط: دار الفكر، بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔