سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-490 Fatwa no: 1447-490

وکیل بالطلاق کو طلاق دینے سے پہلے معزول کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے جرگے کے اصرار پر کہا "میں اپنے بھائی کو وکیل بناتا ہوں کہ جب وہ گھر جائے تو میری بیوی کو طلاق دے دے"، اور بھائی نے جواب دیا "ٹھیک ہے، میں گھر جا کر طلاق دے دوں گا"۔ مگر واپسی پر شوہر نے بھائی سے کہہ دیا "اب طلاق مت دینا"۔ تو ایسی صورت میں کیا شوہر کا یہ کہنا بھائی کی وکالت ختم کر دیتا ہے؟ اور اگر بھائی بعد میں طلاق دے دے تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔؟
جواب :

واضح رہے کہ شرعاً مؤکل کسی بھی وقت وکیل کو معزول کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، صورتِ مسئولہ میں چونکہ شوہر نے اپنے بھائی کو طلاق دینے کا وکیل بنایا تھا،مگر طلاق دینے سے پہلے اسے معزول کر دیا تھا،اس لیے اگر بھائی اس کے بعد طلاق دے گا تووہ  طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
تكملة حاشية ابن عابدين :
شرح مختصر الطحاوي للجصاص:
قال: (ولو قال لأجنبي: ‌طلق ‌امرأتي: كان له أن يطلقها في المجلس وبعده ما لم ينهه، فإن نهاه قبل أن يطلق: لم يكن له أن يطلق).
وذلك لأن هذه وكالة، والوكالة لا تتعلق بالمجلس، كالوكالة بالبيع، والعتق، ونحوهما، وله أن ينهاه؛ لأن له عزل الوكيل متى شاء.
 (باب صريح الطلاق،مسألة:‌‌‌التوكيل في الطلاق ،(5/ 73) دار السراج)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب