سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-491 Fatwa no: 1447-491

وکیل کا مؤکل کی ہدایت کے خلاف دوسرے شخص کو زکوۃ دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو زکوٰۃ کی رقم دی اور اس سے کہا کہ فلاں جگہ سے ایک تبلیغی جماعت جا رہی ہے، اس میں دیکھ کر جو جو مستحق ہوں، انہیں یہ زکوٰۃ کی رقم دے دینا ،(واضح رہے کہ مؤکل نے زید، عمر یا بکر کی طرح کسی مخصوص شخص کو متعین نہیں کیا تھا) اب وکیل نے سستی کی اور وہ رقم اس جماعت کے مستحق افراد تک نہیں پہنچائی، بلکہ بعد میں جو ایک دوسری جماعت جا رہی تھی، اس کے مستحق افراد میں وہ رقم تقسیم کر دی ،اب سوال یہ ہے کہ: کیا اس صورت میں مؤکل کی زکوٰۃ ادا ہو گئی یا نہیں؟اور اگر زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی تو کیا وکیل اس رقم کا ضامن ہوگا یا نہیں؟براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ وکیل کو اتنے ہی تصرّف کا اختیار حاصل ہوتا ہے جتنا اختیار مؤکّل اس کو دیتا ہے اور وکیل کو مؤکّل کی ہدایت کے خلاف کسی قسم کا تصرّف کرنے کا حق حاصل نہیں ،صورتِ مسئولہ میں چونکہ مؤکّل نے وکیل کو زکوٰۃ کی رقم اس مقصد کے لیے دی تھی کہ فلاں مخصوص تبلیغی جماعت کے مستحق افراد میں بطورِ زکوٰۃ تقسیم کی جائے، لیکن وکیل نے مؤکّل کی اس ہدایت کی پابندی نہ کرتے ہوئے وہ رقم کسی دوسری جماعت کے مستحق افراد میں تقسیم کر دی، لہٰذا مؤکّل کی صریح مخالفت کی بنا پر وکیل کا یہ تصرّف شرعاً جائز نہیں  ،جس کی وجہ سے  مؤکّل کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی اور وکیل مؤکّل کے لیے اس رقم کا ضامن ہوگا۔
الفتاوي التاتارخانية :
سئل عمر الحافظ عن رجل دفع الآخر مالا فقال له "هذا زكاة مالي فادفعها الي فلان" فدفع الوكيل الي آخر هل يضمن ؟ قال : نعم ، وله التعيين.
(الفصل التاسع في المسائل المتعلقة بمعطي الزكاة (3/229) مکتبة اعزازية)
حاشية ابن عابدين:
 (قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدا صغيرا فلا بد من كونه فقيرا أيضا لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه أفاده ط عن أبي السعود وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية. وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لا يضمن لقولهم: لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره. اهـ.
أقول: وفيه نظر لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر لأن الداخل تحته ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل، وتلزم القربة كما صرحوا به، وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك ‌الدفع ‌إلى ‌غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي ‌الدفع ‌إلى ‌غيره فتأمل.
(‌‌كتاب الزكاة(2/ 269)دار الفكر - بيروت)
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:
وللوكيل أن يدفع الزكاة لولده الفقير أو زوجته الفقيرة إذا لم يأمره بالدفع إلى شخص معين، ولا يجوز له أن يأخذ الزكاة لنفسه إلا إذا قال له الموكل: ضعها حيث شئت.
وإن أمره بالدفع إلى شخص معين، فدفعها الوكيل لغيره، فيه قولان عند الحنفية: قول بأنه لا يضمن، كمن نذر أن يتصدق على فلان معين، له أن يتصدق على غيره، وقول رجحه ابن عابدين: يضمن؛ لأن الوكيل يستمد سلطته بالتصرف من الموكل، وقد أمر بالدفع إلى فلان، فلا يملك ‌الدفع ‌إلى ‌غيره، كمن أوصى لزيد بكذا، ليس للوصي ‌الدفع ‌إلى ‌غيره .
(المطلب الثاني ـ أحكام متفرقة في توزيع الزكاة (3/ 1976) دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب