نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میٖں کہ ایک شخص کی بیوی ناراض ہوکر میکے گئی ہوئی تھی، وہاں پر شوہر نے اس کو کہا کہ" تم میری طرف سے فارغ ہو" ۔سات سال پہلے یہ واقعہ ہوا تھا اور اسی وقت شوہر بیوی کو لے آیا۔وہ بیوی راضی ہوکر آبھی چکی ہے اور اس دوران اس کا ایک بیٹا ان الفاظ کہنے کے چار سال بعد پیدا ہوچکاہے۔اب اس مسئلے کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ الفاظ "تم میری طرف سے فارغ ہو" كنایات میں سےہیں اور الفاظ کنایات سے طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب شوہر طلاق کی نیت کرےيامذاکرہ طلاق ہو ۔
بصورت مسئولہ اگر شوہرنے یہ الفاظ مذاکرہ طلاق میں ادا کیے ہو ں یا طلاق کی نیت کی تھی تو اس صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی اوراس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی تھی۔ اس نے بیوی کو نکاح جدیدکےبغیر سات سال اپنے پاس رکھ کر گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس لیےدونوں پرخوب توبہ و استغفار کرنا لازم ہےاور بچہ چونکہ طلاق دینے کے چار سال بعد اس وقت پیدا ہوا ہے جس وقت اس کی بیوی اس پر حرام تھی ؛اس لیے بچے کا نسب باپ سے ثابت نہیں ہوگا صرف ماں سے نسب ثابت ہوگا اوراب دونوں میاں بیوی نئے مہر پر نکاح جدید کرسکتے ہیں اور اگر شوہر نے مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت نہ کی ہو اورمذاکرہ طلاق بھی نہ ہو تو اس صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ۔اور بچے کا نسب اسی باپ سے ثابت ہوگا۔آئندہ اس طرح کی بے احتیاطی سے گریز کریں ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :
باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)....... (قوله: ويثبت إلخ) قال في الفتح: حاصل المسألة أن الصغيرة إذا طلقت، فإما قبل الدخول، أو بعده، فإن كان قبله فجاءت بولد لأقل من ستة أشهر ثبت نسبه للتيقن بقيامه قبل الطلاق به، وإن جاءت به لأكثر منها لا يثبت. لأن الفرض أن لا عدة عليها، ولا يستلزم كونه قبل الطلاق لتلزم العدة؛ وإن طلقها بعد الدخول، فإن أقرت بانقضاء العدة بعد ثلاثة أشهر ثم ولدت لأقل بستة أشهر من وقت الإقرار ثبت، وإن لستة أشهر، أو أكثر لا يثبت لانقضاء العدة بإقرارها، ولا يستلزم كونه قبلها حتى يتيقن بكذبها وإن لم تقر بانقضائها ولم تدع حبلا؛ فعندهما إن جاءت به لأقل من تسعة أشهر من وقت الطلاق ثبت وإلا فلا. وعند أبي يوسف يثبت إلى سنتين في البائن وإلى سبعة وعشرين شهرا في الرجعي لاحتمال وطئها في آخر عدتها الثلاثة الأشهر .
(باب الكنايات۳/۲۹۶ ،۵۴۲دار الفكر-بيروت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع
(وأما) الكناية فنوعان: نوع هو كناية بنفسه وضعا، ونوع هو ملحق بها شرعا في حق النية، أما النوع الأول فهو كل لفظ يستعمل في الطلاق ويستعمل في غيره نحو قوله: أنت بائن، أنت علي حرام خلية برئية بتة وقوله: " خلية " مأخوذ من الخلو فيحتمل الخلو عن الزوج والنكاح ويحتمل الخلو عن الخير أو الشر.
(فصل في الكناية في الطلاق ۳/۱۰۵ دار الكتب العلمية)
المبسوط للسرخسي :
أن النسب لا يثبت لا لانعدام البعضية بل للاشتباه لأن الزانية يأتيها غير واحد ولو أثبتنا النسب بالزنى ربما يؤدي إلى نسبة ولد إلى غير أبيه وذلك حرام بالنص حتى أن في جانبها لما كان لا يؤدي إلى هذا الاشتباه كان النسب ثابتا ولأن قطع النسب شرعا لمعنى الزجر عن الزنى فإنه إذا علم أن ماءه يضيع بالزنى يتحرز عن فعل الزنى وذلك يوجب إثبات الحرمة لأن معنى الزجر عن الزنى به يحصل فإنه إذا علم أنه بسبب الحرام مرة يفوته حلال كثير يمتنع من مباشرة الحرام فلهذا أثبتنا الحرمة وإن لم يثبت النسب هنا...... (قال) ولو قال أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية فإن لم ينو الطلاق لا يقع الطلاق لأنه تكلم بكلام محتمل فالبينونة تارة تكون من المنزل وتارة تكون في الصحبة والعشرة وتارة من النكاح.
(باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق ۶/ ۷۲،۳۷۸ دار المعرفة - بيروت)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔