سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-45 Fatwa no: 1447-45

امام مسجد کی تنخواہ اور مسجد کمیٹی کی ذمہ داری

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص کہتا ہے کہ کمیٹی کے وہ حضرات جو امام کو اس پر فتن دورمیں 25000 روپے سے کم تنخواہ دیتے ہیں یہ اس امام پر ظلم ہے ، اللہ تعالی ایسے کمیٹی والوں کو قیامت کے دن ظالمین کے ساتھ کھڑا کرے گا، مفتی صاحب یہ بات درست ہے یا غلط؟
جواب :

شریعت مطہرہ نے آجر کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ اجیر سے کام کروانے کے بعد اجرت کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرےاور اسی طرح اجرت ادا نہ کرنے والے کے لئے آپ علیہ السلام نےوعید بھی بیان فرمائی ہے،تاہم دورحاضر کے تقاضوں کو دیکھ کر  امام مسجدکے لئے اتنی تنخواہ مقرر کرنی چاہئے جو اس کے اور اس کے اہل وعیال کے لئے کافی ہو ،لیکن کوئی خاص مقدار لازم نہیں کہ اس سے کم ظلم ہو،لہذا صورت مسئولہ میں امام صاحب کو جب  اپنی مقررہ تنخواہ بروقت ملتی ہو اگر چہ وہ 25000 روپے سے کم ہی کیوں نہ ہو،تو یہ ظلم نہیں ،البتہ اگر کمیٹی والےامام کو مقررہ تنخواہ سےکم تنخواہ دیں یا تنخواہ دینے میں کمیٹی والےبلا عذر کے تاخیر کرتے ہوں ،تو یہ امام کیساتھ ظلم ہوگا ،جبکہ مذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ 25000 سے کم تنخواہ دینا یہ ظلم ہے درست نہیں ۔
كما فى السنن الكبرى للبيهقي:
وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ الْقَاضِي، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا: " أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ، وَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ وَهُوَ فِي عَمَلِهِ".
(بَابُ لَا تَجُوزُ الْإِجَارَةُ حَتَّى تَكُونَ مَعْلُومَةً، وَتَكُونَ الْأُجْرَةُ مَعْلُومَةً،6،ص199،ط: دار الكتب العلمية)
وفى البدائع الصنائع:
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كُنْت خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ، وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ».    
(كتاب الاجارة،ج4،ص174،ط: دار الكتب العلمية)
وفى ردالمحتار على الدرالمختار:
وَشَرْطُهَا كَوْنُ الْأُجْرَةِ وَالْمَنْفَعَةِ مَعْلُومَتَيْنِ؛ لِأَنَّ جَهَالَتَهُمَا تُفْضِي إلَى الْمُنَازَعَةِ.وَحُكْمُهَا وُقُوعُ الْمِلْكِ فِي الْبَدَلَيْنِ سَاعَةً فَسَاعَةً.
(باب الإجارة،ج6،ص5،ط:ايچ ايم سعيد)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب