سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-492 Fatwa no: 1447-492

EOBI ادارے سے پنشن لینے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک ہم کلرکہار جماعت میں آئے ہوئے ہیں، یہاں ایک بھائی نے مسئلہ پوچھا ہے کہ EOBI ایک گورنمنٹ کا ادارہ ہےجو پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو پنشن دیتا ہے۔اس کیلئے ملازم نے ہر ماہ 800 روپیہ کم از کم 15 سال کیلئے جمع کرانا ہوتا ہے، جس کے بدلے میں 60 سال کی عمر کے بعد موجودہ دور کے حساب سے تقریبا 12000 روپے ماہوار پنشن ملتی ہے عرض یہ کہ کیا موجودہ ادارے سے پنش لینا درست ہے؟
جواب :

بصورتِ مسئولہ ہماری معلومات کی حد تک EOBI  انشورنس  کی بنیاد پر  کام کرکے ضعیف العمر ملازمین کے  لئے ایک متعین مدت کے بعد پنشن کا اجراء کرتی ہے بشرطیکہ  اس معین  مدت کے بعد ملازم  زندہ ہو اور گھر ملازم کا انتقال ہوجائے،تو پھر اس کے خاندان کو کلیم دیا جا تاہے۔مذکورہ صورت  میں سوال سے واضح ہے کہ  ملازم خود آٹھ سو روپے ماہوار جمع کراتا رہتا ہے،اس لئے یہ شرعا ناجائز اور حرام ہے،لہذا اس سے احتراز ضروری ہے،عدمِ جواز کی وجہ یہ ہے،کہ انشورنس سود اور قمار(جوا)  پر مشتمل ہے، ،اور سود  اور قمار(جوا)کوقرآن مجید اور احادیث مبارکہ  نے صراخت کےساتھ حرام قرار دیا ہے،اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے۔انشورنش کے  متبادل کے طورعلماء کرام کی سرپرستی میں "تکافل"کو تشکیل دیاگیاہے،اس  لئے ان کےساتھ مطلوبہ معاملہ کیا جاسکتاہے
 فتاوی عثمانی میں مذکور ہے:انشورنس کی جتنی صورتیں فی زماننا رائج ہیں،سب ناجائز ہیں،کیونکہ وہ سب سود اور قمار پر مشتمل ہیں۔(کتاب الرباوالقمار:3/328:ط:مکتبۃ معارف القرآن)
تاہم اگر کسی جگہ کمپنی جبری طور پر ملازم  کی انشورنس کرادیتی ہو،تو اس صورت میں چونکہ ملازم کا کوئی عمل دخل نہیں ،اس لئے  پھر انشورنس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کےلئے حلال ہوگی۔چنانچہ  مفتی رفیع عثمانی دامت برکاتہم لکھتے ہیں:
"البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اگر اپنے اختیار سے کٹوائی جائے،تو اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا،اس سے اجتناب کیاجائے،کیونکہ اس میں تشبہ بالربا بھی ہے،اور سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی،اس لئےخواہ وصول ہی نہ کریں ،یا وصول کرکے صدقہ کردیں"(ضمیمہ رسالہ پراویڈنٹ فنڈ:ص:25:ط:دارالاشاعت)
قال الله تعالى:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ } 
      [المائدة: 90، 91]

حاشية ابن عابدين:
قوله ( لأنه يصير قمارا ) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص
       (فرع: 6/ 403:ط:دارالفكر)
 الفقه الإسلامي وأدلته:
ويتبين من التعريف أيضاً أن التأمين من عقود الغرر، إذ لا يعرف وقت العقد مقدار ما يعطي كل من العاقدين أو يأخذ، فقد يدفع المستأمن قسطاً واحداً من الأقساط، ثم يقع الحادث، وقد يدفع جميع الأقساط، ولا يقع الحادث...وأما الربا: فمن المؤكد أن عوض التأمين ناشئ من مصدر مشبوه، لأن كل شركات التأمين تستثمر أموالها في الربا، وقد تعطي المستأمن (المؤمن له) في التأمين على الحياة جزءاً من الفائدة، والربا حرام قطعاً. ثم إن الربا واضح بين العاقدين: المؤمِّن والمستأمن؛ لأنه لا تعادل ولا مساواة بين أقساط التأمين وعوض التأمين، فما تدفعه الشركة قد يكون أقل أو أكثر، أو مساوياً للأقساط، وهذا نادر، والدفع متأخر في المستقبل، فإن كان التعويض أكثر من الأقساط، كان فيه ربا فضل وربا نسيئة، وإن كان مساوياً ففيه ربا نسيئة، وكلاهما حرام.
(6/ 4183:دارالفكر-بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب