نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ ہماری معلومات کی حد تک EOBI انشورنس کی بنیاد پر کام کرکے ضعیف العمر ملازمین کے لئے ایک متعین مدت کے بعد پنشن کا اجراء کرتی ہے بشرطیکہ اس معین مدت کے بعد ملازم زندہ ہو اور گھر ملازم کا انتقال ہوجائے،تو پھر اس کے خاندان کو کلیم دیا جا تاہے۔مذکورہ صورت میں سوال سے واضح ہے کہ ملازم خود آٹھ سو روپے ماہوار جمع کراتا رہتا ہے،اس لئے یہ شرعا ناجائز اور حرام ہے،لہذا اس سے احتراز ضروری ہے،عدمِ جواز کی وجہ یہ ہے،کہ انشورنس سود اور قمار(جوا) پر مشتمل ہے، ،اور سود اور قمار(جوا)کوقرآن مجید اور احادیث مبارکہ نے صراخت کےساتھ حرام قرار دیا ہے،اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے۔انشورنش کے متبادل کے طورعلماء کرام کی سرپرستی میں "تکافل"کو تشکیل دیاگیاہے،اس لئے ان کےساتھ مطلوبہ معاملہ کیا جاسکتاہے
فتاوی عثمانی میں مذکور ہے:انشورنس کی جتنی صورتیں فی زماننا رائج ہیں،سب ناجائز ہیں،کیونکہ وہ سب سود اور قمار پر مشتمل ہیں۔(کتاب الرباوالقمار:3/328:ط:مکتبۃ معارف القرآن)
تاہم اگر کسی جگہ کمپنی جبری طور پر ملازم کی انشورنس کرادیتی ہو،تو اس صورت میں چونکہ ملازم کا کوئی عمل دخل نہیں ،اس لئے پھر انشورنس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کےلئے حلال ہوگی۔چنانچہ مفتی رفیع عثمانی دامت برکاتہم لکھتے ہیں:
"البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اگر اپنے اختیار سے کٹوائی جائے،تو اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا،اس سے اجتناب کیاجائے،کیونکہ اس میں تشبہ بالربا بھی ہے،اور سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی،اس لئےخواہ وصول ہی نہ کریں ،یا وصول کرکے صدقہ کردیں"(ضمیمہ رسالہ پراویڈنٹ فنڈ:ص:25:ط:دارالاشاعت)
قال الله تعالى:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ }
[المائدة: 90، 91]
حاشية ابن عابدين:
قوله ( لأنه يصير قمارا ) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص
(فرع: 6/ 403:ط:دارالفكر)
الفقه الإسلامي وأدلته:
ويتبين من التعريف أيضاً أن التأمين من عقود الغرر، إذ لا يعرف وقت العقد مقدار ما يعطي كل من العاقدين أو يأخذ، فقد يدفع المستأمن قسطاً واحداً من الأقساط، ثم يقع الحادث، وقد يدفع جميع الأقساط، ولا يقع الحادث...وأما الربا: فمن المؤكد أن عوض التأمين ناشئ من مصدر مشبوه، لأن كل شركات التأمين تستثمر أموالها في الربا، وقد تعطي المستأمن (المؤمن له) في التأمين على الحياة جزءاً من الفائدة، والربا حرام قطعاً. ثم إن الربا واضح بين العاقدين: المؤمِّن والمستأمن؛ لأنه لا تعادل ولا مساواة بين أقساط التأمين وعوض التأمين، فما تدفعه الشركة قد يكون أقل أو أكثر، أو مساوياً للأقساط، وهذا نادر، والدفع متأخر في المستقبل، فإن كان التعويض أكثر من الأقساط، كان فيه ربا فضل وربا نسيئة، وإن كان مساوياً ففيه ربا نسيئة، وكلاهما حرام.
(6/ 4183:دارالفكر-بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔