نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ شریعت نے اچھائی اورنیکی کے کام میں معاونت کی ترغیب دی ہے،اور برائی اوربرے کاموں میں معاونت سے منع فرمایا ہے،اس لئے آدمی کو چاہئے کہ اچھا کام کرنے اور اچھائی پھیلانے کا باعث بنے،اور برے کام کرنے سے بچتا رہے۔
بصورتِ مسئولہ پہلے اجمالی جواب ملاحظہ ہو،اس کے بعد ہرشق کا الگ الگ جواب دیا جائے گا۔
کمپنی جو سافٹ ویئرز ری سیل(خرید کرنا فروخت کرنا) کرتی ہے،ان کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:
1-سافٹ وئیر کا استعمال حلال کام ہی میں ہو۔
2-سافٹ ویئر کا استعمال حرام ہی میں ہوسکتا ہو۔
2-حلال اور حرام دونوں میں اس کااستعمال ممکن ہو۔
اب آپ کے سوال کا اصولی جواب یہ ہے کہ جس سافٹ ویئر کا استعمال حلال کام ہی کےلئے ہو ،تو اس کے بنانے یا خرید کر فروخت کرنے میں شرعا کوئی خرابی نہیں اور اس کی اجرت لینا بھی بلاکراہت جائز ہے۔اورجس سافٹ ویئر کا استعمال حرام ہی کےلئے ہو،تو اس کو نہ بنانا جائز ہے اور نہ ہی خرید کر فروخت کرنا جائز ہے، اور فروخت کرنے کی صورت میں اجرت حلال نہ ہوگی،جبکہ آخری صورت میں احناف کے نزدیک ان چیزوں کو بنانا یا خرید کر فروخت کرنا جائز ہے بشرطیکہ فروخت کرتے وقت فروخت کرنے والےکی نیت کسی گناہ کےکام میں تعاون کرنے کی نہ ہو،اور نہ ہی اس کو بالیقین معلوم ہو،کہ خریدار ا س کو گناہ کے کام میں استعمال کرےگا،بصورتِ دیگر گناہ گار ہوگا۔اب ترتیب وار اپنے سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں۔
بصورتِ مسئولہ:
1- آپ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں ،چونکہ وہ سافٹ ویئرز ،ریسیل (دوبارہ فروخت کرنے)کا کام کرتی ہے،اس لئے اس میں کام کےجواز یا عدمِ جواز کا تعلق سافٹ ویئرز کی ساخت کے ساتھ ہے ،آپ کے سوال کے مطابق مذکورہ کمپنی اب تک فقط CFD(Contract of Difference) (ایک ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس میں اصل اثاثہ خریدا نہیں جاتا بلکہ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ پر سٹہ لگایا جاتا ہے، اور نفع یا نقصان خرید و فروخت کی قیمت کے فرق کی بنیاد پر ہوتا ہے) سے متعلق سافٹ ویئرز کی خرید وفروخت کرتی رہی ہے ،جس کا استعمال محض حرام معاملہ(سٹہ بازی) میں ہوتا ہے،اس لئے اب تک آپ کا اس کے ساتھ کام کرنا گناہ کے کام میں معاونت کی وجہ سے جائز نہیں تھا،اس لئےاس پر توبہ اور استغفار کرنا چاہئے، اور آپ کا حاصل کردہ اجرت بھی جائز نہیں ہے۔
2-اگر سافٹ ویئر صرف CFD(سٹہ بازی) ہی کےلئے استعمال ہوتا ہے،تو پھر آپ کےلئے کام کرنا جائز نہیں ،بلکہ اپنے لئے کوئی دوسرا حلال کام تلاش کریں۔
3-کمپنی جو مزید کام شروع کرنے جارہی ہے،اس میں بھی بعض کام جائز نہیں مثلا کرپٹو وغیرہ۔اس صورت میں اگر کوئی کسی جائز مقصد کےلئے سافٹ ویئر کی خریداری کرتا ہے،تو اس صورت میں آپ کا کام اور معاوضہ جائز ہوگا بصورتِ دیگر نہیں۔
4-اگر کمپنی متنوع کام کرتی ہے،اور ان میں سے کسی جائز مقاصد کےلئے وہ بھرتی کرنا چاہتی تو پھر آپ کا اس کےلئے افراد فراہم کرنا اور اس کے لئے پاکستان میں کمپنی بنانا بھی درست ہے،اور اس پر کمیشن لینا بھی درست ہے،بشرطیکہ کمپنی آپ کو اسی کام کی تنخواہ نہ دیتی ہو۔
5-حلال سافٹ ویئر فروخت کرنے پر کمیشن حلال ہوگی جبکہ حرام کےلئے بنائے گئے سافٹ ویئر پر کمیشن حلال نہ ہوگی۔
6-اس سوال کا جواب ماقبل سوالات کے ضمن میں آگیا ہے،کمپنی اگر حلال اور حرام دونوں قسم کےکام کےلئے خدمات فراہم کرتی ہے،تو حلال کام (فروختگی )کرنے کی اجرت حلال ہوگی۔بصورت دیگر نہیں۔باقی اگر کمپنی آپ کو پاکستان میں کنٹریکٹ دیتی ہے۔اس کا جواب سوال نمبر4 میں گزرا ۔
قال الله تعالى:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}
[المائدة: 2]
فقه البيوع:
فالقسم الأول:ما وضع لغرض محظور...وذكر فيه الفقهاء آلات الملاهي المحظورة،ويقصدون بها آلات الموسيقي الممنوعة في المذاهب الاربعة...ويجوز بيع ألات الملاهي من البرط،والطبل،والمزمار ...عند أبي حنيفه،لكنه يكره،وعندهما لا ينعقد بيع هذه الأشياء...والظاهر أن الكراهة التي ذكرها الحنفية في بيعها قبل أفصلها تحريمية...القسم الثاني ما وضع لمباح: أما لقسم الثاني فهو ما وضع لغرض مباح...فبيعه ممن يستعمله في مباح أو ممن لا يعلم منه أنه يستعمله في محظورجائز عند الجميع بدون كراهة...القسم الثالث:ما وضع لأغراض عامة:والقسم الثالث:ما وضع لأغراض عامة،ويمكن استعماله في حالته الموجودة في مباح أو غيره...والظاهر من مذهب الحنفية أنهم يجيزون بيع هذا القسم،وإن كان معظم منافعه محرما،ولذلك أجازوا بيع الدهن المتنجس...ولكن جواز البيع في هذه الأشياء بمعنى صحة العقد.أما الإثم فيتأتى فيه ما ذكرناه في شروط العاقد من أنه إذا كان يقصد به معصية ،بائع أو مشتريا،فالبيع يكره تحريما ،وذلك إما بنية في القلب،أو بالتصريح في العقاد.
(2/305...313:ط:معارف القرأن)
ايضا:
الاعانة علی المعصية حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدة:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانة حقیقته ما قامت المعصية بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنية الاعانة او التصریح بها.
(1/185:ط:معارف الفران)
ايضا:
بیع الأشیاء إليه(البنک) : وفيه تفصیل ، فإن کان المبیع ممایتمحض استخدامه فی عقد محرم شرعاً، مثل برنامج الحاسوب الذی صمم للعملیات الربوية خاصة، فإن بیعه حرام للبنک وغیرہ ، وکذلک بیع الحاسوب بقصد أن یستخدم فی ضبط العملیات المحرمةأوبتصریح ذلک فی العقد. أمابیع الأشیاء التی لیس له علاقته مباشرۃ بالعملیات المحرمة ، مثل السیارات أو المفروشات ، فلیس حراماً، وذلک لأنه ا لایتمحض استخدامه فی عمل محظور.
(264/2، ط: معارف القرآن)
ايضا:
وأما الوظائف المركبة من الخدمات المباحة والخدمات المحظورة،فلا يجوز قبولها لاشتمالها على عمل محرم.ولكن إن قبل أحد مثل هذه الوظيفة،فما حكم الراتب الذي أخذه عليها؟لم أجد فيها نقلا في كلام الفقهاء...والحاصل:أن الإجارة في الخدمة المباحة إنما تصح إذا كانت أجرتها معلومة بانفرادها،ولا تصح فيما إذا لم تكن أجرتها معلومة.فإن كان كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشركات التأمين،صارت أجرة الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام،فدخلت في الصورة الثالثة من القسم الثالث،وحلّ التعامل معه بقدر الحلال.أمّأ إذا لم تعرف أجرة المباحة على حدها،فالإجارة فاسدة ولكن الأجير يستحق أجر المثل في الإجارات الفاسدة.
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔