سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-494 Fatwa no: 1447-494

ختم قرآن اور افطاری کےلئے چندہ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
السلام علیکم !کیا فر ماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ختم قرآن کے موقع پر مسجد کی انتظامیہ نے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ سوسائٹی کی مسجد میں لو گوں کو دعوت نامہ دیتے ہیں کہ ختم قرآن میں شریک ہوں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر گنجا ئش ہے تو اسمیں اپنا حصہ بھی ڈالدے ،دوبارہ اسکو فورس نہیں کرتے کہ لازمی آپ نے پیسے دینے ہیں اور اس جمع شدہ رقم سے سو سائٹی کے لوگوں کو افطار کراتے ہیں , اور مقصد یہ ہوتا ہے ،کہ لوگوں کے دلوں میں اس بات کی اہمیت پیدا ہو کہ ہم نے اللہ کے گھر کو کیسے آباد کرنا ہے ،اور ان پیسوں سے امام اور مؤذن کی خدمت بھی کرتے ہیں،تو کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ ختم قرآن کے بعد امام صاحب کی مالی خدمت کرنا کیسا ہے؟ تنقیح: اس بات میں اختلاف ہے کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ افطاری کےلئے الگ چندہ اور ختم قرآن کےلئے الگ چندہ ہو،جبکہ بعض دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ نہیں ،صرف ایک ہی چندے سے دونوں کام پورے کئے جائے۔
جواب :

واضح رہے کہ "چندہ کرنا" ضرورت کے وقت  مشروع ہے،اور اس کا ثبوت آپ ﷺ کی عملی زندگی سے ملتا ہے،کئی مواقع پر آپﷺ نے چندہ عام کا اعلان فرمایا اور صحابہ کرام نے  خوب بڑھ چڑھ کر  حصہ لیا،لیکن  بغیر شدید ضرورت کے چندہ کرنا کوئی اچھا  کام نہیں۔اس سے احتراز بہتر ہے۔
بصورت مسئولہ چونکہ چندہ کرنے سے آپ لوگوں کے   دو مقاصد ہیں:
1-سوسائٹی کے لوگوں کےلئے افطاری کا انتظام کرنا -    2- اس چندہ سے موذن اور امام صاحب کی مالی خدمت کرنا۔ 
یہ دونوں کام ایسے نہیں کہ اس کے لئے  عمومی چندہ کا اعلان کیاجائے،کیونکہ سوسائٹی کے لوگ اپنے گھروں میں بھی افطار کرسکتے ہیں۔ہاں اگر مسافر  لوگ موجود ہوں،تو ان کو افطار کرانے کےلئے چندہ  کرنے  میں کوئی  حرج نہیں۔باقی  امام یا مؤذن کے ساتھ تعاون کرنے کےلئے بھی مذکورہ طریقہ درست نہیں،کیونکہ یہ تعاون اگر ختم قرآن کے موقع پر بطورِ اجرت کے ہو،تو وہ تو شرعا جائز ہی  نہیں اور اگر بطورِ اکرام ہو،تو پھر بھی  مذکورہ طریقہ درست نہیں۔اس لئے مذکورہ طریقہ سے چندہ   کرنا چاہئے ختم ِقرآن  اور افطاری کے لئے الگ الگ  ہو یا  ایک ساتھ ہو درست نہیں۔البتہ اگر چند اہل ثروت اپنی طرف سے  اس کا انتظام کرلیں،تو پھر گنجائش ہے۔
باقی ختم قرآن کے بعد امام صاحب کی مالی خدمت کرنا اگر پہلے سے طے ہو یا کسی علاقے میں اس کو ضروری سمجھا جاتا ہو،تو  پھر تو درست نہیں بصورتِ دیگر درست ہے۔البتہ یہاں بھی حکم وہی ہے  جو ماقبل میں گزرا،کہ امام صاحب کی مالی خدمت کےلئے بھی اس طرز پر چندہ کرنا درست نہیں۔
سنن الترمذي:
عن زيد بن أسلم عن أبيه قال : سمعت عمر بن الخطاب يقول أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نتصدق فوافق ذلك مالا فقلت اليوم أسبق أبا بكر إن سبقته يوما قال فجئت بنصف مالي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أبقيت لأهلك ؟ قلت مثله وأتى أبو بكر بكل ما عنده فقال يا أبا بكر ما أبقيت لأهلك ؟ قال أبقيت لهم الله ورسوله قلت والله لا أسبقه إلى شيء أبدا.
(باب مناقب ابي بكر: 5/ 614:داراحياء التراث العربي)
حاشية ابن عابدين 
قوله ( ويكره التخطي للسؤال )قال في النهر والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اه  ومثله في البزازية  وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكور  قال الإمام أبو نصر العياضي أرجو أن يغفر الله تعالى لمن يخرجهم من المسجد  وعن الإمام خلف بن أيوب لو كنت قاضيا لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم اه  وسيأتي في باب المصرف أنه لا يحل أن يسأل شيئا من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحاله لإعانته على المحرم.
(مطلب في الصدقة على سؤال المسجد: 2/ 164:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب