سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-495 Fatwa no: 1447-495

الزام کی صورت میں مسجد کے امام کو برقرار رکھنے یا معزول کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد میں ایک آدمی امام ہے،اس کی عمر تقریبا چالیس سال ہوگی،غیر شادی شدہ ہے،عالم نہیں صرف حافظ ہے،شرعی مسائل کا بھی اس کو ادراک نہیں ،اس کی عادات اور اطوار سے گاؤں کے بعض لوگ مطمئن نہیں ہیں،اور غیر اخلاقی عادات و اطوار مسلم بھی ہیں ،اس میں کوئی بے لا وجہ الزام نہیں۔وہ بعض بڑی عمر کی بچیوں کو مسجد میں پڑھاتا ہے اور وہ بھی بغیر پردے کے۔اس کے علاوہ والدین بھی اس سے ناراض ہیں اور وہ بھی والدین کو برا بھلا کہتا رہتا ہے۔اس وجہ سے گھر بھی نہیں جاتا۔اب گاؤں والوں میں بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس کو اجازت دی جائے اور کسی اور متقی عالم کا انتظام کیا جائے لیکن بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ نہیں ،اسی کو برقرار رکھا جائے۔اب ہمیں اس بات کی ضرورت پڑی کہ ہم کسی دارالافتاء سے رجوع کرکے شرعی رہنمائی حاصل کریں۔شرعی رہنمائی فرما کرثواب دارین حاصل کریں۔
جواب :

اصل جواب سمجھنے سے پہلے دو باتیں  ذہن نشین ہوں:
1-مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی  کے  مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
2-نماز اسلام کا ایک اہم اور بنیادی  رکن ہے،احادیث میں عالم اور متقی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنے کی فضیلت آئی ہے،اس لئے  غیر عالم  کے بجائے عالم  اور  متقی آدمی  کے پیچھے نماز پڑھنا اولی اور بہتر ہے۔لیکن غیر عالم کے پیچھے بھی نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ ضروری مسائل جانتا ہو۔
اس تمہید کے بعد اصل  مسئلہ ملاحظہ ہو۔
بصورت مسئولہ   اگر آپ کا سوال صحیح   اور حقیقت پرمبنی ہے،اس میں کسی قسم کی کوتاہی  یا غلط بیانی سے کام  نہیں لیا گیا ہے تو  سب سے پہلے تو عمدہ طریقے کے ساتھ   امام صاحب کو  سمجھایا جائے،اگر وہ سمجھ جاتاہے اور اپنے برے افعال و اخلاق سے باز آتا ہے تو انہی کو امام برقرار رکھا جائے بشرطیکہ  وہ نماز سے متعلق ضروری مسائل جانتا  ہو۔اور خدانخواستہ اگر وہ سمجھانے کے باوجود نہیں سمجھتا یا نماز سے متعلق ضروری مسائل بھی نہیں جانتا،تو اس صورت میں مذکورہ وجوہات(بڑی عمر کی بچیوں کو بغیر پردے کے سبق پڑھانا،اور والدین کا نافرمان ہونا )کی بنا  ء اس کو معزول کیا جاسکتا ہے اور اس کو معزول کرنا ہی بہتر ہے۔اس کے بعد عالم  اور متقی آدمی کا انتظام کرنا چاہئے۔ 
نوٹ:واضح رہے کہ امام کو معزول کرنے کی صورت میں گاؤں  کے دیگر لوگوں کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہے،اگر گاؤں کے اکثر لوگ اس امام سے نالاں ہوں،تو  پھر اس کو معزول کیا جاسکتا ہے،اگر یہ صرف دو چار لوگوں کا مسئلہ ہو،اور باقی گاؤں والے سارے اس کے امام ہونے  پر  متفق ہوں ،اور ناراض لوگوں کے پاس  امام کے خلاف  کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو،تو پھر  اس صورت میں ان کی ناراضگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔کیونکہ بعض دفعہ کسی ذاتی رنجش کو بھی  لوگ شرعی خرابی کا  رنگ دے کر ائمہ مساجد  کو معزول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جو کہ شرعا جائز نہیں۔
سنن أبى داود: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ « ثَلاَثَةٌ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلاَةً مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلاَةَ دِبَارًا ». وَالدِّبَارُ أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ « وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ ».(باب من يؤم القوم:ص:1/  231:ط: دارالكتب العربي)
عون المعبود:( من تقدم قوما ) أي للامامة ( وهم له كارهون ) قال في النيل وقد قيد ذلك جماعة من أهل العلم بالكراهية الدينية لسبب شرعي فأما الكراهة لغير الدين فلا عبرة بها وقيدوه أيضا بأن يكون الكارهون أكثر المأمومين ولا اعتبار بكراهة الواحد والاثنين والثلاثة إذا كان المؤتمون جمعا كثيرا إلا إذا كانوا اثنين أو ثلاثة فإن كراهتهم أو كراهة أكثرهم معتبرة والاعتبار بكراهة أهل الدين دون غيرهم. (باب الرجل يؤم القوم...ص: 2/ 213:ط:دارالكتب العلمية)
في العرف الشذي للكشميري:حاصل المسألة كما قال الفقهاء : إن باعث الكراهة الشرعية إن كان من جانب الإمام فالإثم عليه ، وإن كان من جانب القوم فالإثم عليهم لا على الإمام.( 1/ 409)
في البحر الرائق : وفي الفتاوى لو صلى خلف فاسق أو مبتدع ينال فضل الجماعة لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لقوله من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى على خلف نبي قال ابن أمير حاج ولم يجده المخرجون  نعم أخرج الحاكم في مستدركه مرفوعا إن سركم أن يقبل الله صلاتكم فليؤمكم خياركم فإنهم وفدكم فيما بينكم وبين ربكم وذكر الشارح وغيره أن الفاسق إذا تعذر منعه يصلي الجمعة خلفه وفي غيرها ينتقل إلى مسجد آخر  وعلل له في المعراج بأن في غير الجمعة يجد إماما غيره فقال في فتح القدير وعلى هذا فيكره الاقتداء به في الجمعة إذا تعددت إقامتها في المصر على قول محمد وهو المفتى به لأنه بسبيل من التحول حينئذ  وفي السراج الوهاج فإن قلت فما الأفضلية أن يصلي خلف هؤلاء أو الانفراد قيل أما في حق الفاسق فالصلاة خلفه أولى لما ذكر في الفتاوى(باب الامامة: 1/ 370:دارالمعرفة)
في فقه البيوع:الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب