نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
بصورتِ مسئولہ جب آپ اپنے بھائی سے الگ ہوگئے ہیں اور اس کا آپ کے بھائی نے اپنے دو بھائیوں اور ایک بہن کے سامنے اقرار بھی کیا ہے،تو اس صورت میں آپ کا نفع ونقصان الگ ہی تصور ہوگا۔چونکہ الگ ہوتے وقت آپ نے گھروں اور دکانوں میں اپنے حق کا مطالبہ نہیں کیا ،بلکہ پانچ لاکھ بانوے ہزار روپے مزید اپنے ذمہ قبول کرلئے،اس لئے گھروں اور دکانوں میں آپ کا حصہ نہیں بن رہا کیونکہ آپ نے اپنے حصے کو بھائی کو ہبہ کردیا ہے یا ان کو بری کردیا ہےجیساکہ سوال میں مذکور ہے۔
البتہ جہاں تک 41 یا 42 روپے قرض کی بات ہے۔وہ آپ کا حق ہے۔وہ کسی طرح ساقط نہیں ہوتا۔اس لئے آپ کے بھائی اور بھتیجے کو چاہئے کہ بغیر کسی ٹال مٹول کے وہ رقم آپ کو واپس کردیں۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جو آدمی قرض میں بلاوجہ ٹال مٹول کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ایک اور حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا ،جس کا مفہوم ہے کہ تم لوگ اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو۔ ممکن ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک یا فصیح ہو، اور میں اسی کی بات سن کر اس کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ کر دوں،تو وہ اسے ہرگز نہ لے، کیونکہ درحقیقت میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوتا ہوں۔لہذا ان احادیث اور ان جیسی اور بہت ساری احادیث کو سامنے رکھ آپ کے بھائی اور بھتیجے کو آپ کا حق لوٹا نا چاہئے۔بصورتِ دیگر دنیا و آخرت دونوں میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہوگا۔
باقی آپ کے بھائی اور بھتیجے کا یہ کہنا کہ آپ کے پاس جو یورپ کے کاغذات ہیں،ان میں ہمارا حصہ ہے،درست نہیں ،خصوصا جب آپ الگ ہونے کے بعد یورپ گئے ہیں۔لیکن اگر آپ الگ ہونے سے پہلے بھی وہ کاغذات حاصل کرلیتے ،تب بھی اس میں آپ کے بھائی اور بھتیجے کا کوئی حق نہیں بنتا ،کیونکہ نیشنیلٹی( قومیت) ملنا محض ایک حق ہے اور یہ اسی کا ہوتا ہے،جس کے نام یہ جاری ہوتا ہے۔
نوٹ:۔آدمی کو چاہئے کہ دنیاوی مفاد کی خاطر بھائی جیسے مقدس رشتے کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہونے دے۔وقتی جذبات کے بجائے ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لے اور شریعت کے فیصلے کے سامنے اپنا سرجھکا کر صحیح مسلمان ہونے کا ثبوت دے۔
صحيح مسلم :
عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم * إنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو مما أسمع منه فمن قطعت له من حق أخيه شيئا فلا يأخذه فإنما أقطع له به قطعة من النار.
(باب الحكم بالظاهر واللحن بالحجة: 3/ 1337)
سنن أبى داود:
عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « مطل الغنى ظلم وإذا أتبع أحدكم على ملىء فليتبع ».
(باب في المطل: 3/ 253:دارالكتاب العربي)
في فقه البيوع:
الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.
(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)
الدر المختار:
(ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار.
(كتاب الهبة:5/692:دارالفكر)
البناية شرح الهداية:
والصحيح جواز هبة المشاع ورهنه وإجازته ووقفه كما يجوز بيعه وقرضه والوصية به، ولا زال الناس على ذلك ولم يرد في رده كتاب ولا سنة ولا إجماع، فإن طلب الموهوب له القسمة وألزم بها الواهب فهو كما إذا ألزم بها البائع وقد باع حصة عما يملكه، فكان أن ذلك لا يمنع من صحة البيع وإن كان فيه إلزام بما لا يلتزمه، فكذلك لا يمنع من صحة الهبة.
(الهبة فيما يقسم:10/171:دارالكتب العلمية)
الهداية شرح البداية:
قال وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها لقوله عليه الصلاة والسلام إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل.
(فصل: 3/ 228:المكتبة الاسلامية)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔