سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-496 Fatwa no: 1447-496

الگ ہوجانے کے بعد بھائی کو نقصان میں شریک سمجھنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ شریک رہا،میں یورپ چلا گیا،یورپ جانے پر جو خرچہ آیا تھا،وہ بڑے بھائی کی بہو نے اپنا زیور بیچ کر کیا تھا۔میں پورپ پہنچ گیا ،اس کے بعد بھائی کی بہو کےلئے وہی رقم بھیج دی،اور اس کےلئے دوبارہ زیور بنالیا گیا،اس کے بعد کئی سال تک ہم شریک رہیں ۔اس دورانیہ میں،میں نے کروڑوں کے حساب سے رقم بھیجی ہے،رقم میں بھتیجے کے نام پر بھیجتا تھا۔اسی دوران بھائی بھتیجے نے دو دوکان خرید لئے اور اسی طرح دو گھر بھی۔یہ سلسلہ چلتا رہا،کچھ مجبوریوں کے باعث مجھے یورپ سے واپس آنا پڑا،میں افغانستان کے راستے سے پاکستان آیا۔ادھر پاکستان میں ،میں بیروزگار رہا ،اس لئے مجبورا مجھے موبائل کے کیبلز اور چارجرز فروخت کرنے پڑے،میں اور بھائی دو الگ الگ جگہوں پر رہتے تھے۔اسی دوران بھائی نے مجھے بلایا اور ان کے گھر میں بیٹھ کر انہوں نے بتایا کہ اب الگ ہونا چاہئے،لہذا آج کے بعد آپ کا حساب کتاب اپنا ہوگا اور ہمارا اپنا ہوگا۔بھتیجے نے کہا کہ آپ نے ہمیں پانچ لاکھ نوے ہزار روپے مزید دینے ہیں ،میں نے اس کی بھی حامی بھرلی ۔درمیان میں کسی تیسرے بندے کو نہیں بٹھایا تاکہ گھر کی بات باہر نہ جائے۔میں نے بھی بڑا بھائی سمجھ کر کچھ نہیں کہا اور ہاں کیا۔اس کے بعد بڑے بھائی نے یہ تذکرہ ،دو بھائیوں اور ایک بہن کے سامنے بھی کیا ،کہ میرا اور اس کا حساب الگ الگ ہے،وہ بھائی ،بہن اس پر گواہی دینے کےلئے تیار ہیں۔اس الگ ہونے کے تین سال بعد میں نے دوبارہ کوشش کی ،اور کسی طریقہ سے یورپ پہنچ گیا۔ میں نے وہی پانچ لاکھ نوے ہزار روپے بھتیجے کو بھیج دئے،جس کا اس نے الگ ہونے کے وقت مطالبہ کیا تھا۔ اور اس کے بعد کئی سال گزر گئے،تقریبا دو سال پہلے مجھے بھتیجے کی کال آئی ،اس نے آن لائن کاروبار میں نقصان کیا تھا،اور رقم کا مطالبہ کیا،اس نے مجھے کہا کہ یا تو میں رقم واپس کردوں گا،یا آپ کےلئے کوئی خریداری کروں گا،میں نے تقریبا 41 یا 42 لاکھ روپے بھیج دئے،اس کا ثبوت موجود ہے۔اب جب میں واپس آیا تو میں نے بھائی اور بھتیجے سے قرض رقم کا مطالبہ کیا ،کیونکہ مجھے ضرورت تھی کیونکہ میں اب تک کرائے کے مکان میں رہتا ہوں ۔اس پر ودونوں مکر گئے ، بھائی کہتا ہےکہ آپ مجھ سے الگ ہی نہیں ہوئے ہیں۔اور قرض لوٹانے کے بجائے مجھ سے مزید رقم کا مطالبہ کررہے ہیں۔کہتے ہیں کہ آپ کو جو یورپ میں کا غذات(نیشنیلٹی ) ملے ہیں ۔اس میں ہمارا حصہ ہے۔ باقی جو دو گھر اور دوکان ہیں ،اس کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ میرے بیٹے کے نام ہیں اور بیٹے کو میں نے الگ کیا ہے۔اس میں بھی آپ کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ بیان میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر دے رہا ہوں،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کا م نہیں لیا گیا ہے۔آپ حضرات میری شرعی رہنمائی فرمائیں ،کہ اس صورت میں میرا بڑے بھائی کے ساتھ حصہ بن رہا ہے یا نہیں ۔ نوٹ: ہمارے الگ ہونے کے تقریبا پندرہ سال ہوگئے ہیں۔ تنقیح: الگ ہوتے وقت میں نے گھر اور دوکان میں اپنے حصے کا مطالبہ اس لئے نہیں کیا کہ یہ میرے بڑے بھائی ہیں اور مجھے بمنزلہ والد کے ہیں،لیکن جب اب انہوں نے تسلیم شدہ حق سے انکار کیا ،تو میں بھی گھر اور دکانوں میں مطالبہ کرتا ہوں۔
جواب :

واضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی  کے  مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
بصورتِ مسئولہ  جب آپ اپنے بھائی سے الگ ہوگئے ہیں اور اس کا آپ  کے بھائی نے  اپنے دو بھائیوں اور ایک بہن کے سامنے اقرار بھی کیا ہے،تو اس صورت میں آپ کا نفع ونقصان  الگ ہی تصور ہوگا۔چونکہ الگ ہوتے وقت آپ نے  گھروں اور دکانوں میں   اپنے حق  کا مطالبہ نہیں کیا ،بلکہ پانچ لاکھ بانوے ہزار روپے مزید اپنے ذمہ   قبول  کرلئے،اس لئے گھروں اور دکانوں میں آپ کا حصہ نہیں بن رہا کیونکہ آپ نے اپنے حصے کو بھائی  کو ہبہ کردیا ہے  یا ان کو بری کردیا ہےجیساکہ سوال میں مذکور ہے۔
البتہ جہاں تک 41 یا 42 روپے قرض کی بات ہے۔وہ آپ کا حق ہے۔وہ کسی طرح ساقط نہیں ہوتا۔اس لئے آپ کے بھائی اور بھتیجے کو چاہئے کہ بغیر کسی ٹال  مٹول کے وہ رقم آپ کو واپس کردیں۔حدیث شریف کا  مفہوم ہے  کہ  جو آدمی قرض  میں بلاوجہ ٹال مٹول کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ایک اور حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا ،جس کا مفہوم ہے کہ تم لوگ اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو۔ ممکن ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک یا فصیح ہو، اور میں اسی  کی بات  سن کر اس کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ کر دوں،تو  وہ اسے ہرگز نہ لے، کیونکہ درحقیقت میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوتا ہوں۔لہذا ان احادیث اور ان جیسی اور بہت ساری احادیث کو سامنے رکھ  آپ  کے بھائی اور بھتیجے کو  آپ کا حق لوٹا نا چاہئے۔بصورتِ دیگر دنیا و آخرت دونوں میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہوگا۔
باقی  آپ  کے بھائی اور بھتیجے کا  یہ کہنا کہ آپ کے پاس جو یورپ کے کاغذات ہیں،ان میں ہمارا حصہ ہے،درست نہیں ،خصوصا جب آپ الگ ہونے کے بعد یورپ گئے ہیں۔لیکن اگر آپ  الگ ہونے سے پہلے بھی وہ کاغذات حاصل کرلیتے ،تب بھی اس میں آپ کے  بھائی اور بھتیجے کا کوئی حق  نہیں بنتا ،کیونکہ  نیشنیلٹی( قومیت) ملنا محض ایک حق ہے اور یہ اسی کا ہوتا ہے،جس کے نام یہ جاری ہوتا ہے۔

نوٹ:۔آدمی کو چاہئے کہ دنیاوی  مفاد کی خاطر بھائی جیسے مقدس رشتے کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہونے دے۔وقتی جذبات  کے بجائے ٹھنڈے دل  ودماغ سے کام لے اور شریعت کے فیصلے کے سامنے اپنا سرجھکا کر صحیح مسلمان ہونے کا ثبوت دے۔

صحيح مسلم :
عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم * إنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو مما أسمع منه فمن قطعت له من حق أخيه شيئا فلا يأخذه فإنما أقطع له به قطعة من النار.
(باب الحكم بالظاهر واللحن بالحجة: 3/ 1337)
سنن أبى داود:
عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « مطل الغنى ظلم وإذا أتبع أحدكم على ملىء فليتبع ».
(باب في المطل: 3/ 253:دارالكتاب العربي)
في فقه البيوع:
الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.
(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)
الدر المختار:
(ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار.
(كتاب الهبة:5/692:دارالفكر)
البناية شرح الهداية:
والصحيح جواز هبة المشاع ورهنه وإجازته ووقفه كما يجوز بيعه وقرضه والوصية به، ولا زال الناس على ذلك ولم يرد في رده كتاب ولا سنة ولا إجماع، فإن طلب الموهوب له القسمة وألزم بها الواهب فهو كما إذا ألزم بها البائع وقد باع حصة عما يملكه، فكان أن ذلك لا يمنع من صحة البيع وإن كان فيه إلزام بما لا يلتزمه، فكذلك لا يمنع من صحة الهبة.
(الهبة فيما يقسم:10/171:دارالكتب العلمية)
الهداية شرح البداية:
قال وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها لقوله عليه الصلاة والسلام إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل.
(فصل: 3/ 228:المكتبة الاسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب