سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-497 Fatwa no: 1447-497

امام مسجد کے ساتھ غیر مہذب رویے رکھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے میں ایک امام صاحب ہیں،قریبا عرصہ بارہ سال سے وہ اس مسجد میں امامت کی خدمات سرانجام دے ر ہے ہیں،اور یہ خدمات وہ فی سبیل اللہ سرانجام دے رہے ہیں،گاؤں والوں سے کوئی معاوضہ نہیں لیتے ،وہ ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتے ہیں اور اس سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔گاؤں والے رمضان میں تراویخ کے موقع پر کوئی چار پانچ ہزار کا تعاون کرتے ہیں اور بس۔اس کے علاوہ ماہانہ کوئی مشاہرہ نہیں۔گاؤں والے سب ان سے خوش ہیں،اور مسجد کے متولی بھی خوش ہیں،متولی نے مسجد اپنی زمین پر بنائی ہے۔اب ہوا یہ کہ مذکورہ امام صاحب کسی کام کی وجہ سے گاؤں سے باہر آئے تھے،تو پیچھے تین حضرات (جو سکول کے ٹیچرز ہیں) نے کسی دور گاؤں سے ایک قاری صاحب لے آئے،اور مسجد میں بیٹھا دیا،قاری صاحب کسی اور مسلک کے ہیں ،جبکہ پورےگاؤں والوں کا تعلق دیوبندی مسلک سے ہیں۔امام صاحب جب واپس آئے،تو انہوں یہ ماجر ا دیکھ کر قاری صاحب کو سمجھایا،اور قاری صاحب بھی اختلاف میں نہیں پڑنا چاہتے تھے،اس لئے چلے گئے،امام صاحب نے مسجد کے نیچے والے منزل کو تالے لگائے تھے۔ان تین حضرات میں سے ایک آیا ،اور تالا توڑ دیا اور امام صاحب کو برا بھلا بھی کہا۔اب درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 1-اگر متولی ،گاؤں کے سارے مقتدی امام صاحب کے حق میں ہوں،تو کیا دو تین بندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسجد کے امور میں عمل دخل دیں؟ 2-امام صاحب کے حقوق کیا ہیں؟ کیا کسی مقتدی کو یہ حق حاصل ہے ،کہ وہ امام کی بے عزتی کرے،یا اس کے ساتھ مسجد کے امور میں بے لاوجہ دخل دے؟ 3-مذکورہ مسئلے کا درست اور صحیح حل کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ :۔
1-جب مسجد کا متولی بذاتِ  خود موجود ہو،تو پھر کسی اور آدمی کو نہ شرعا  یہ حق حاصل  ہے اور نہ اخلاقا، کہ وہ مسجد کے امور میں مداخلت کرے ۔لہذا مذکورہ تین حضرات  کو اپنے فعل سے باز آنا چاہئے۔بصورت دیگر افتراق ڈالنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوں گے۔
2- جس طرح مسجد کی امامت ایک عظیم ذمہ داری ہے،اسی طرح   امامِ مسجد   بھی بڑی فضیلت اور مرتبے کا حامل ہوتا ہے۔لہذا ا مامِ مسجد کا دل و جان سے احترام ہونا چاہئے ،باقی  امام کے مرتبے کے لحاظ سے اس کے حقوق بھی بڑھ جاتے ہیں،لیکن سب سے بڑا حق یہ ہے  کہ امام صاحب  کےلئے  حالات کے مطابق  تنخواہ مقرر کی جائے،ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے،اور دل سے ان  کا احترام کیا جائے۔
جہاں تک تعلق ہے،امامِ مسجد کی بے عزتی اور بے احترامی کرنے کا ،تو یہ تو شرعا اور اخلاقا بہت بڑا جرام ہے،ایسے لوگوں کےلئے احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ مسند احمد میں مروی ہے " کہ آپﷺ نے فرمایا:"کہ جو ہمارے عالم کے حقوق ادا نہ کرے ،وہ ہم میں سے نہیں"لہذا کسی مسلمان کےلئے جائز نہیں  ہےکہ وہ کسی عالم دین کی توہین کرے،اس کو برا بھلا کہے یا اس کے خلاف بلاوجہ پروپیگنڈہ کرے،خاص طور پر جب وہ ان کے پیچھےنمازیں پڑھتا رہاہو،لہذا ایسے آدمی کو چاہئے  اپنےاس فعل قبیح پر پہلے امام صاحب سے معافی مانگیں اور پھر  اللہ تعالی کے حضور  توبہ اور استغفار کرے۔
3-اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے  کہ مسجد  کے امور  میں خود دخل اندازی کے بجائے امام  صاحب اور متولی صاحب کو اعتماد میں لیا جائے،جو بھی بات ہو،اس کو باہمی  مشاورت سے طے کیا جائے،اگر امام صاحب کا کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے  یہ تین  حضرات نالاں ہیں،تو  یا تو اما م صاحب کو براہ راست پیار اور محبت سے سمجھائیں،اور اگر  اس میں کوئی مشکل ہو،تو متولی کے علم میں  لے آئیں،لیکن مسجد اور محلے کے ماحول کو برقرار رکھنے کےلئے  خود دخل اندازی سے گریز کریں۔بصورت دیگر  تمام نمازی و متولی گاؤں کے  حالات کے مطابق ان کے متعلق کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں یا قانونی طریقہ بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

قال الله تعالى:
{وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (11) 
[الحجرات: 11]
رياض الصالحين:
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ، عن النَّبيّ - صلى الله عليه وسلم - ، قَالَ : (( المُسْلِمُ منْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
(باب تحريم الظلم:ص: 1/ 165)

مسند أحمد:
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ.
(الجزء السابع والثلاثون:ص: 37/ 416:مؤسسة الرسالة
عون المعبود:
( من تقدم قوما ) أي للامامة ( وهم له كارهون ) قال في النيل وقد قيد ذلك جماعة من أهل العلم بالكراهية الدينية لسبب شرعي فأما الكراهة لغير الدين فلا عبرة بها وقيدوه أيضا بأن يكون الكارهون أكثر المأمومين ولا اعتبار بكراهة الواحد والاثنين والثلاثة إذا كان المؤتمون جمعا كثيرا إلا إذا كانوا اثنين أو ثلاثة فإن كراهتهم أو كراهة أكثرهم معتبرة والاعتبار بكراهة أهل الدين دون غيرهم. 
(باب الرجل يؤم القوم...ص: 2/ 213:ط:دارالكتب العلمية)
الموسوعة الفقهية الكويتية:
وظائف المتولي غير محصورة عند التولية المطلقة ، فله أن يعمل كل ما يراه مصلحة للوقف وذكر بعض الفقهاء في ذلك ضابطا فقالوا : يتحرى في تصرفاته النظر للوقف والغبطة ، لأن الولاية مقيدة به
(وظيفة المتولي: 36/ 102:ط:المكتبة الشاملة)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب