نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ شریعت میں مدعی کے ذمہ گواہ ہوتے ہیں اگر وہ گواہوں سے عاجز آجائے تو پھر مدعی علیہ کو قسم دی جاتی ہے۔بصورتِ مسئولہ جس آدمی نے آپ کی دوکان سے امانت کی رقم اٹھائی ہے مدعی ہے،کیونکہ وہ جعلی نوٹوں کا دعویدار ہے جبکہ آپ منکر ہیں،اس لئے اگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں کہ آپ نے جعلی نوٹ دئے ہیں،اس صورت میں آپ ضامن ہوں گے،اور اگر اس کے پاس گواہ موجود نہیں تو پھر آپ پر قسم ہے۔قسم اٹھانے کے بعد آپ بری ہوجائیں گے۔
ہمارا مشورہ یہ ہے کہ قسم کی طرف جانے کے بجائے صلح کی طرف جائیں۔گیارہ نوٹوں میں سے آدھی رقم آپ ادا کریں اور آدھی رقم کا نقص وہ برداشت کرے۔اور آئیندہ کےلئے دونوں معاملات میں محتاط رہنے کی کوشش کریں۔
قال الله تعالى:
{ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ}
[الحجرات: 10]
سنن الترمذي:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في خطبته البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه.
(باب:ان البينة على المدعي: 3/ 626:داراحياء التراث العربي)
مختصر القدوري:
المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها. والمدعى عليه من يجبر على الخصومة.
(كتاب الدعوى:ص:735:بشرى)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔