سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-498 Fatwa no: 1447-498

امانت کی واپسی میں نوٹوں کی جعلی ہونے میں اختلاف کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے ایک آدمی کو کسی کی امانت دینی تھی،وہ آئے اور رقم وصول کی ،ایک لاکھ بیس ہزار،اورچلے گئے ،کچھ دن بعد فون آیا کہ آپ سے جو نوٹ وصول کئے گئے ہیں،ان میں گیارہ(11) جعلی ہیں،میں اپنی دوکان میں بلایا اور بتایا کہ یہاں ہماری پاس مشین پڑی ہے،ہم چیک کئے بغیرکوئی رقم نہ جیب میں اور نہ ہی دوکان میں رکھتے ہیں،تو وہ پیسے مشین سے گزارتے ہیں،اگر اس نے الارم نہیں دی ،کہ پیسے جعلی ہے،تو پھر میں ذمہ دار ہوں(کیونکہ مشین میں فرق ہوسکتا ہے) لیکن اگر مشین نے الارم دی،تو پھر یہ رقم میری نہیں ہے۔اب میں بھی قسم اٹھانا کےلئے تیار ہوں،کہ یہ رقم میری نہیں اور وہ بھی قسم اٹھانے کےلئے تیار ہے کہ یہ آپ کی ہے۔اب اس میں شرعی حکم کی طرف راہنمائی فرمائیں کہ قسم کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔
جواب :

واضح رہے کہ شریعت میں مدعی کے ذمہ گواہ ہوتے ہیں  اگر وہ گواہوں سے عاجز آجائے تو پھر  مدعی علیہ کو قسم دی جاتی ہے۔بصورتِ مسئولہ جس آدمی نے  آپ کی دوکان سے امانت کی رقم اٹھائی ہے  مدعی ہے،کیونکہ وہ جعلی نوٹوں کا دعویدار ہے جبکہ آپ منکر ہیں،اس لئے اگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں کہ آپ نے جعلی نوٹ دئے ہیں،اس صورت میں آپ ضامن ہوں گے،اور اگر اس کے پاس گواہ موجود نہیں تو پھر آپ پر قسم ہے۔قسم اٹھانے  کے بعد آپ بری ہوجائیں گے۔
ہمارا مشورہ یہ ہے کہ قسم کی طرف جانے کے بجائے صلح کی طرف جائیں۔گیارہ نوٹوں میں سے آدھی رقم  آپ ادا کریں اور آدھی رقم کا نقص وہ برداشت کرے۔اور آئیندہ کےلئے دونوں معاملات میں محتاط رہنے کی کوشش کریں۔
قال الله تعالى:
{ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} 
[الحجرات: 10]
سنن الترمذي:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في خطبته البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه.
(باب:ان البينة على المدعي: 3/ 626:داراحياء التراث العربي)
مختصر القدوري:
 المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها. والمدعى عليه من يجبر على الخصومة.
(كتاب الدعوى:ص:735:بشرى)

 

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب