نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ نذر کے صحیح ہونے کےلئے ضروری ہے کہ جس چیز کی نذر مانی جائے وہ کسی فرض یا واجب عبادت کے جنس میں سے ہو،بصورتِ دیگر نذر منعقد نہیں ہوتی ۔بصورت مسئولہ " اللہ اکبر" اگرچہ باری تعالی کا ذکر ہے،اور عبادت ہے لیکن فرض یا واجب کے جنس میں سے نہیں ،اس لئے مذکورہ نذر منعقد نہیں ہوئی ہے،لہذا اگر خاتون اسے پورا نہیں کرسکتی ،تو شرعا گناہگار نہ ہوگی۔
فی الدر المختار:( ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب ) أي فرض كما سيصرح به تبعا ل ( البحر ) و ( الدرر ) ( وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت ( ووجد الشرط ) المعلق به ( لزم الناذر ) لحديث من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى ( كصوم وصلاة وصدقة).(كتاب الأيمان،ج،ص:735،ط :دار الفكر)
وفي ردالمحتار:قوله ( وهو عبادة مقصودة ) الضمير راجع للنذر بمعنى المنذور لا للواجب خلافا لما في البحر قال في الفتح مما هو طاعة مقصودة لنفسها ومن جنسها واجب الخ وفي البدائع ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض وتشييع الجنازة والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة اه فهذا صريح في أن الشرط كون المنذر نفسه عبادة مقصودة لا ما كان من جنسه ولذا صححوا النذر بالوقف لأن من جنسه واجبا وهي بناء مسجد للمسلمين كما يأتي مع أنك علمت أن بناء المساجد غير مقصود لذاته(المطلب في أحكام النذر:3/375:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔