سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-499 Fatwa no: 1447-499

ایک کروڑ مرتبہ"اللہ اکبر"کا ورد کرنے کی نذر ماننے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری خالہ جان نے نذر مانی تھی کہ میں ایک کروڑ مرتبہ "اللہ اکبر"کا ورد کروں گی،اب وہ بیمار ہیں اور اس نذر کو پوری کرنے سے قاصر ہیں۔تو اس کےلئے شرعا کیا حکم ہے؟ کیا وہ کفارہ ادا کرکے بری الذمہ ہوسکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا دوسروں سے یہ ورد کراسکتی ہے مثلا اپنی اولاد وغیرہ سے۔شرعی رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا۔
جواب :

واضح رہے کہ نذر کے صحیح  ہونے کےلئے ضروری ہے کہ جس چیز کی نذر مانی جائے  وہ کسی فرض یا واجب عبادت کے جنس میں سے ہو،بصورتِ دیگر نذر منعقد نہیں ہوتی ۔بصورت مسئولہ " اللہ اکبر" اگرچہ باری تعالی  کا ذکر ہے،اور عبادت ہے لیکن فرض یا واجب کے جنس میں سے نہیں ،اس لئے  مذکورہ نذر منعقد نہیں ہوئی  ہے،لہذا اگر خاتون  اسے پورا نہیں کرسکتی ،تو شرعا گناہگار نہ ہوگی۔
فی الدر المختار:( ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب ) أي فرض كما سيصرح به تبعا ل ( البحر ) و ( الدرر ) ( وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت ( ووجد الشرط ) المعلق به ( لزم الناذر ) لحديث من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى ( كصوم وصلاة وصدقة).(كتاب الأيمان،ج،ص:735،ط :دار الفكر)
وفي ردالمحتار:قوله ( وهو عبادة مقصودة ) الضمير راجع للنذر بمعنى المنذور لا للواجب خلافا لما في البحر قال في الفتح مما هو طاعة مقصودة لنفسها ومن جنسها واجب الخ وفي البدائع ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض وتشييع الجنازة والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة اه فهذا صريح في أن الشرط كون المنذر نفسه عبادة مقصودة لا ما كان من جنسه ولذا صححوا النذر بالوقف لأن من جنسه واجبا وهي بناء مسجد للمسلمين كما يأتي مع أنك علمت أن بناء المساجد غير مقصود لذاته(المطلب في أحكام النذر:3/375:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب