سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-46 Fatwa no: 1447-46

امانت میں تصرف کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
زید نے قاسم کو ایک لاکھ روپے دیئےکہ اس کو اپنے پاس امانت رکھو،قاسم نے کہا کہ میں آپ کی اس رقم کو جمیل کے پاس امانت رکھوں گا ،اور زید نے قاسم کو اس بات کی اجازت دے دی۔لیکن قاسم نے اس رقم کو جمیل کے پاس بطور قرض دیکر جمع کر دیا(قاسم نے زید کے حکم کی مخالفت کی)۔اب پوچھنا یہ ہیکہ آیا قاسم اس مخالفت کی وجہ سے زید کے لیے ضامن شمارہو گا یا نہیں؟اوراگر جمیل نے اس  رقم کو  اپنے مال کے ساتھ ملا دیا ہو یا اس کو خرچ کر دیا ہو ،تواب جمیل ،قاسم کا مقروض ہے یا زید کا؟میری رائے یہ ہیکہ قاسم اس مخالفت کی وجہ سے ضامن  ہے ،اور زید اپنے پیسے قاسم سے مانگے گا ۔اس معاملے میں آپ حضرات کی رائے مطلوب ہے۔مکمل رہنمائی فرمادیں ۔

جواب :

صورت مسئولہ میں چونکہ قاسم نے زید کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے آگے رقم بطور قرض کے دی ہے ،لہذا  رقم کے ضائع ہونے کی صورت میں قاسم ،زیدکے لیے ضامن ہو گا ،کیونکہ قاسم کی طرف سے تعدی پائی گئی ہے۔ اور دوسری صورت میں قاسم نے  رقم بطور قرض کے جمیل کو دی تھی ،تو اس صورت میں جمیل قاسم کا مقروض ہو گا۔
كمافي القرآن الكريم:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا.....(58)
[سورة النساء ،آيت 58]
وفي الهداية؛
قال ومن أودع رجلا وديعة فأودعها آخر فهلكت فله أن يضمن الأول وليس له أن يضمن الآخر وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا له أن يضمن أيهما شاء فإن ضمن الأول لا يرجع على الآخر وإن ضمن الآخر رجع على الأول لهما أنه قبض المال من يد ضمين فيضمنه كمودع الغاصب وهذا لأن المالك لم يرض بأمانة غيره فيكون الأول متعديا بالتسليم والثاني بالقبض فيخير بينهما غير أنه إن ضمن الأول لم 
يرجع على الثاني لأنه ملكه بالضمان فظهر أنه أودع ملك نفسه وإن ضمن الثاني رجع على الأول لأنه عامل له فيرجع عليه بما لحقه من العهدة وله أنه قبض المال من يد أمين لأنه بالدفع لا يضمن.
[فصل فی الاختلاف،ج3ص218،ط:دارالفکر]

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب