سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-502 Fatwa no: 1447-502

بھانجی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہے مفتان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زینب نے زید کی بہن عائشہ کی بیٹی فاطمہ کو دودھ پلایا ہے ،اب سوال یہ ہے کہ زینب کی بیٹی عمرہ کا نکاح زید کے ساتھ شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ  عمرہ زید کےلئے بھانجی کی رضاعی بہن لگتی ہے،اور  بھانجی کی رضاعی  بہن کے ساتھ نکاح کرنا  شرعا جائز ہے ،بشرطیکہ محرمیت کا کوئی اور  رشتہ نہ ہو
قال الله تعالى:
{وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا}
 [النساء: 24]
في العناية شرح الهداية: 
(وَيَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنْ الرَّضَاعِ) ؛ لِأَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنْ النَّسَبِ وَذَلِكَ مِثْلُ الْأَخِ مِنْ الْأَبِ إذَا كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ مِنْ أُمِّهِ جَازَ لِأَخِيهِ مِنْ أَبِيهِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا. 
(باب الرضاع:3/ 450:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب