نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ میت کی بہنوں کے ساتھ ساتھ میت کا چچا ازد بھائی بھی میراث کا مستحق ہے،جبکہ ماموں زاد محروم رہے گا۔لہذا میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے گا،نیز اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد باقی مال تین حصوں میں تقسیم کیا جائےگا،جن میں سے دو حصے میت کی بہنوں کو دئے جائیں گے،جبکہ ایک حصہ میت کے چچا زاد بھائی کو دیا جائے گا۔
قال الله تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.
(النساء:11)
سنن ابن ابي داؤد:
عن ابن عباس قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « اقسم المال بين أهل الفرائض على كتاب الله فما تركت الفرائض فلأولى ذكر.
(باب في ميراث العصبة:3/82:ط:دارالكتاب العربي)
الفتاوى الهندية
وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق كذا في خزانة المفتين
(الباب الثالث في العصبات: 6/ 451:دارالفكر)
السراجي:
قال علماؤنا تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة :مرتبة الاول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير...ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله،ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته.
(الفصل:الفرائض نصف العلم:ص:3)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔