سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-503 Fatwa no: 1447-503

کیا میت کی بہنوں کے ہوتے ہوئے چچازاداور ماموں زاد بھائی وارث بن سکتا ہے۔

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون فوت ہوئی ہے، اس کے والدین،چچا اور ماموں پہلے فوت ہوچکے ہیں،اس کا کوئی بھائی نہیں تھا،صرف بہنیں ہیں،اور اس کے علاوہ ماموں زاد اور چچا زاد بھی زندہ ہیں،اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا بہنوں کے ساتھ چچا زاد اور ماموں زاد بھی میراث کے مستحق ہوں گے،یا ان کا میراث میں حق کوئی نہیں بنتا۔وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ میت  کی بہنوں کے ساتھ ساتھ  میت کا چچا ازد بھائی بھی  میراث کا مستحق ہے،جبکہ ماموں زاد محروم رہے گا۔لہذا میت  کے  کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے گا،نیز اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد باقی مال تین حصوں  میں تقسیم کیا جائےگا،جن میں سے دو حصے میت کی بہنوں کو  دئے  جائیں گے،جبکہ ایک حصہ میت کے چچا زاد بھائی کو دیا جائے گا۔
قال الله تعالى: 
      يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.
(النساء:11)
سنن ابن ابي داؤد:
       عن ابن عباس قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « اقسم المال بين أهل الفرائض على كتاب الله فما تركت الفرائض فلأولى ذكر.
(باب في ميراث العصبة:3/82:ط:دارالكتاب العربي)
الفتاوى الهندية
      وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق كذا في خزانة المفتين
(الباب الثالث في العصبات: 6/ 451:دارالفكر)
 السراجي:
      قال علماؤنا تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة :مرتبة الاول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير...ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله،ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته.                  
  (الفصل:الفرائض نصف العلم:ص:3)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب