سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-504 Fatwa no: 1447-504

بیرون ملک میں موجود لڑکی کا پاکستان میں ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
حضرت مسئلہ پوچھنا تھا کہ کہ اگر لڑکی بیرون ملک میں بیٹھی ہوئی ہو اور لڑکا یہاں پاکستان میں تو کیا ویڈیو کال کے ذریعے سے ان دونوں کا نکاح ہوسکتا ہے؟ کیونکہ یہاں پر لڑکی کا کوئی بھی قریبی رشتہ دار باپ بھائی وغیرہ نہیں ہے تو کیا اگر ویڈیو کال کے اوپر ان کا نکاح کیا جائے تو ایسا نکاح منعقد ہو جائے گا؟ کیونکہ لڑکی لڑکا ایک نشست کے اندر موجود نہیں ہیں اور لڑکی کا بطور وکیل باپ بھائی وغیرہ یا کوئی ایسا رشتہ دار جو کہ محرم ہو بھی موجود نہیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کےلئے  ضروری ہے کہ میاں بیوی دو گواہوں کی روبرو ایک مجلس  میں ایجاب وقبول کریں ،بصورتِ دیگر نکاح  منعقد نہیں ہوگا۔بصورت مسئولہ ویڈیو کال کے ذریعے   نکاح میں میاں بیوی کا مجلس ایک ہے یا نہیں ؟ اس کے بارے میں ہم عصر مفتیان کرام کا اختلاف ہے۔بعض حضرات  اس کو ایک مجلس قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے حضرات انکار کرتے ہیں ،اس لئے اختلاف سے نکلنے کےلئے ویڈیو کال  کے ذریعے سے  نکاح سے احتراز کرنا چاہئے۔اس کا آسان متبادل یہ ہے  کہ لڑکی پاکستان میں کسی آدمی کو اپنے نکاح کا وکیل بنادے اگرچہ وہ اجنبی کیوں نہ ہو،اور پھر  وہ وکیل دو گواہوں کی موجودگی میں اس کا نکاح کرادے
نوٹ:۔ یہ بات واضح ہو کہ عموما اس طرح کا نکاح والدین یا اولیاء سے چھپ کرکیا جاتا ہے،اولیاء کو نظر انداز کرکے   چھپ کر نکاح  کرنا غیر اخلاقی عمل ہے،اس لئے اس سے احتراز کرنا چاہئے۔
اللباب في شرح الكتاب:
وهو (ينعقد بالإيجاب) من أحد المتعاقدين (والقبول) من الآخر ...(ولا ينعقد نكاح المسلمين) بصيغة المثنى (إلا بحضور شاهدين حرين بالغين عاقلين مسلمين) سامعين معاً قولهما فاهمين كلامهما على المذهب كما في البحر (أو رجل وامرأتين، عدولا كانوا) أي الشهود (أو غير عدول أو محدودين في قذف) 
(كتاب النكاح:1/253:دارالكتاب العربي)
بدائع الصنائع:
وَأَمَّا الذي يَرْجِعُ إلَى مَكَانِ الْعَقْدِ فَهُوَ اتِّحَادُ الْمَجْلِسِ إذَا كان الْعَاقِدَانِ حَاضِرَيْنِ وهو أَنْ يَكُونَ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ في مَجْلِسٍ وَاحِدٍ حتى لو اخْتَلَفَ الْمَجْلِسُ لَا يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بِأَنْ كَانَا حَاضِرَيْنِ فَأَوْجَبَ أَحَدُهُمَا فَقَامَ الْآخَرُ عن الْمَجْلِسِ قبل الْقَبُولِ أو اشْتَغَلَ بِعَمَلٍ يُوجِبُ اخْتِلَافَ الْمَجْلِسِ لَا يَنْعَقِدُ لِأَنَّ انْعِقَادَهُ عِبَارَةٌ عن ارْتِبَاطِ أَحَدِ الشَّطْرَيْنِ بِالْآخَرِ فَكَانَ الْقِيَاسُ وُجُودَهُمَا في مَكَان وَاحِدٍ إلَّا أَنَّ اعْتِبَارَ ذلك يُؤَدِّي إلَى سَدِّ بَابِ الْعُقُودِ فَجُعِلَ الْمَجْلِسُ جَامِعًا لِلشَّطْرَيْنِ حُكْمًا مع تَفَرُّقِهِمَا حَقِيقَةً لِلضَّرُورَةِ وَالضَّرُورَةُ تَنْدَفِعُ عِنْدَ اتِّحَادِ الْمَجْلِسِ فإذا اخْتَلَفَ تَفَرُّقُ الشطران (الشطرين ) حَقِيقَةً وَحُكْمًا فَلَا يَنْتَظِمُ الرُّكْنُ.
(فصل في شرائط الركن: 2/ 232:ط:دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب