سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-505 Fatwa no: 1447-505

بیوی کو کئی مرتبہ ،آزاد ہو اور چلی جاؤ کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
میرا نام ماریہ ہے، میں فی الحال برطانیہ میں رہائش پزیر ہوں۔ مجھے طلاق کے مسئلہ پر فتوی درکار ہے، میرے شوہر نے کچھ الفاظ ادا کئے ہیں جو میرے علم اور سمجھ کے مطابق طلاق کے زمرے میں آتے ہیں،جس وقت میرے شوہر نے وہ الفاظ ادا کئے اور جب ہماری بحث اور تکرار ہو رہی تھی اس وقت میں پاکستان میں تھی اور میرا شوہر دبئی میں۔ میرے پاس ساری کال رکارڈنگ اور چیٹ موجود ہے آپ وہ دیکھ کر مجھے بتائے کہ اس پر کیا فتویٰ لگتا ہے،مجھے فتویٰ تھوڑا جلدی درکار ہے کیونکہ میرا شوہر بھی برطانیہ آرہا ہے۔ اس وجہ سے میرے لیے اس رشتے کی شرعی حیثیت جاننا بہت ضروری ہے۔
جواب :

بصورت مسئولہ آپ کے شوہر نے یک بعد دیگرے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
1-میں آتا ہوں،آزاد کردیتا ہوں،پھر آپنی مرضی سے جو دل  آئے  کرو،یوکے جاؤ ،آزاد رہو۔
2-میرے گھر  کا خیال رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ،آپ جاؤ اپنا خیال رکھو۔
3-کل چلی جاؤ آپ،خلاص ،فینش۔
4-جو کام میرے لئے کررہی  ہو،ان سے آزاد ہو،نہ آپ  میرا گھر سنبھالو اور نہ ہی میری اولاد۔
5-آپ آزاد ہو۔
6۔میری طرف سے آپ آزاد ہو۔
ہرایک کا حکم ملاحظہ ہو۔
پہلی صورت: طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ  یہ  صرف طلاق کی دھمکی ہے،انشاءطلاق(طلاق دینا) نہیں ۔
دوسری  اور تیسری صورت:  ،جاؤ اپنا خیال رکھو،کل چلی جاؤ، دونوں الفاظ شوہر کی نیت پر موقوف ہیں،اگر طلاق کی نیت سے  تھی،تو اس سے دو طلاقِ بائن واقع ہوگئیں ہیں بصورتِ دیگر نہیں۔باقی  " خلاص اور فینش "تقریبا ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے،یعنی معاملہ ختم،اس لئے اس لئے بھی شوہر کی نیت پر موقوف ہے۔اگر نیت طلاق کی ہو،تو طلاق واقع ہوگئی ہے،بصورتِ دیگر نہیں۔
چوتھی صورت: اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوئی ،کیونکہ  اس میں وضاحت ہے،کہ میرے   لئے جو کام کررہی ہو ان سے آزاد۔
 پانچویں اور چھٹی صورت:  ان دونوں صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہیں۔چونکہ آزاد کا لفظ عرف میں صریحی بن گیا ہے،اس لئے اسے دو طلاق رجعی واقع ہوگئیں ہیں۔باقی جہاں تک عدت  کی بات ہے،تو مذکورہ الفاظ  کہنے کے  بعد آپ کی عدت  شروع ہوگئی ہے۔اگر شوہر نے   تین ماہواریوں تک کوئی رابطہ نہیں رکھا ہےیعنی کوئی رجوع نہیں کیا ہے،تو آپ  ان سے بائنہ ہوگئی ہیں، اور اس صورت میں اگر آپ دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو نئے مہر کے ساتھ  نکاح کرنا ضروری ہوگا۔لیکن اگر مذکورہ الفاظ کہنے کے بعد بھی وہ آپ کے ساتھ رابطے میں ہیں   اور  آپ کو اپنی بیوی ہی سمجھتی ہےتو اس صورت میں رجوع ثابت ہوگیا ہے،لہذا آپ دونوں کا نکاح برقرار ہے،آئندہ کےلئے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق  کا حق باقی ہے۔
البحر الرائق:
 وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير.
(باب الطلاق الصريح: 3/ 271:دارالمعرفة)
الفتاوى الهندية:
 ولو قال لها اذهبي أي طريق شئت لا يقع بدون النية وإن كان في حال مذاكرة الطلاق.
(الفصل الخامس في الكنايات: 1/ 376:دارالفكر) 
وفيه ايضا:
ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى .وفي المنتقى لو قال لها اذهبي ألف مرة ونوى الطلاق يقع الثلاث وفي مجموع النوازل لو قال لها اذهبي إلى جهنم ونوى الطلاق يقع كذا في الخلاصة
(الفصل الخامس في الكنايات: 1/ 375:دارالفكر)
البحر الرائق:
ولو قال اذهبي فتزوجي وقال لم أنو الطلاق لم يقع شيء لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك  كذا في شرح الجامع الصغير لقاضيخان
(باب الكنايات في الطلاق: 3/ 326:دارالمعرفة)
حاشية ابن عابدين:
ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن لولا ذلك لوقع به الرجعي.
(باب الكنايات: 3/ 299:درالفكر)

مختصر القدوري:
والرجعة أن يقول لها:راجعتك،أو راجعت إمرأتي،أو يطأها،أو يقبلها،أو يلمسهابشهوة،أو ينظر إلى فرجها بشهوة.
(كتاب الرجعة:589:بشرى)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب