نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ ان الفاظ کی وجہ سے شخصِ مذکور کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،بلکہ یہ کلام لغواور بیکارہے،البتہ بیوی کو ماں یابہن کہناکراہت سے خالی نہیں ہے،اس لئے اسےگریزکرناچاہئے،نیز خاتون کو بھی عقلمندی سے کام لینا چاہئے ،شوہر کے باربار منع کرنے کے باوجود گھر سے باہر نکلنا نہ صرف یہ کہ ازدواجی زندگی کےلئے تباہ کن ہے،بلکہ خاتون گناہ کا ارتکاب بھی کرتی رہی ہے۔اس لئے اس کو اپنے کئے ہوئے پر توبہ کرکے آئندہ کےلئے احتیاط کرنا چاہئے۔
حاشية ابن عابدين:والذي في الفتح وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه وفيه حديث رواه أبو داود أن رسول الله سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه ولو لا هذا الحديث لأمكن أن يقول هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة ولفظ يا أخية استعارة بلا شك وهي مبنية على التشبيه لكن الحديث أفاد كونه ليعين ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا ومثله أن يقول لها يا بنتي أو يا أختي ونحوه.(كتاب الطلاق:مطلب بلاغات محمد-رحمه الله: ص:3/ 470:ط:ايج،ايم،سعيد)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔