سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-507 Fatwa no: 1447-507

بیوی کی سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی مثلا،زید کی دو بیویاں ہیں،ایک کا نام "اسماء" ہے،جبکہ دوسری کا نام" فاطمہ" ہے،اسماء کی دو بیٹیاں پیدا ہوگئیں،جن میں سے ایک کا نام "اقراء" اور دوسری بیٹی کانام" ارم" ہے،پھر شخصِ مذکور فوت ہوا،اسماء کی بڑی بیٹی "اقراء" کا نکاح آصف سے ہوا ہے۔اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا آصف اپنی بیوی کی سوتیلی ماں"فاطمہ " سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں ؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ چونکہ  "اقراء" اور اس کی سوتیلی ماں"فاطمہ" کے درمیان حرمت کا کوئی رشتہ نہیں،اس لئے آصف کےلئے دونوں کو نکاح میں جمع کرنا جائز ہے بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔یہ تو پوچھے گئے سوال کا جواب ہے،باقی  چونکہ "اقراء" اور "فاطمہ" کے درمیان رشتہ داری کا  پہلے سے ایک تعلق رہا ہے،اس لئے  اس نکاح کا اچھا یا برا اثر دوسری جگہ نکاح کرنے سے زیادہ ہوسکتاہے،اس لئے حالات  کا جائزہ لے  کر قدم اٹھانا چاہئے۔
قال الله تعالى:حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا(سورة النساء:23)
وقال ايضا: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا(سورة النساء:24)
في بدائع الصنائع :ويجوز الجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل.... وأنا نقول الشرط أن تكون الحرمة ثابتة من الجانبين جميعا وهو أن يكون كل واحدة منهما أيتهما كانت بحيث لو قدرت رجلا لكان لا يجوز له نكاح الأخرى ولم يوجد هذا الشرط لأن الزوجة منهما لو كانت رجلا لكان يجوز له أن يتزوج الأخرى لأن الأخرى لا تكون بنت الزوج فلم تكن الحرمة ثابتة من الجانبين فجاز الجمع بينهما(2/ 263:ط:دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب