نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ، میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو، تو وہ ادا کیا جائے گا،نیز اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد جو مال بچ جائے وہ مذکورہ ورثاء میں تقسیم کیا جائےگا،جو بھائی والد صاحب کی حیات میں شہید ہوا ہے وہ میراث کا حقدار نہیں ۔لہذا اگر مرحوم (محمد خان)کے مذکور ہ ورثاء (چار بیٹے اور چار بیٹیوں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں،تو ان مذکورہ ور ثاء میں میراث اس طور پر تقسیم ہوگی،کہ ہربھائی کو بہن سے دگنا حصہ مل جائے ،چنانچہ کل مال کے بارے حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے ہرایک بھائی کو دو حصے ،جبکہ ہر ایک بہن کو ایک حصہ دیا جائےگا۔
قال الله تعالی:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
السراجي في الميراث:
قال علماءنا:تتعلق بتركة الميت حقوق اربعةمرتبة:الاول يبدأبتكفينه وتجهيزه من غيرتبذيرولاتقتير،ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله ،ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي.
(الحقوق المتعلقة بتركة الميت:ص:5:ط:بشرى)
الموسوعة الفقهية الكويتية :
وللإرث ثلاثة شروط:
أولها : تحقق موت المورث أو إلحاقه بالموتى حكما كما في المفقود إذا حكم القاضي بموته أو تقديرا كما في الجنين الذي انفصل بجناية على أمه توجب غرة .ثانيها : تحقق حياة الوارث بعد موت المورث ، أو إلحاقه بالأحياء تقديرا ، كحمل انفصل حيا حياة مستقرة لوقت يظهر منه وجوده عند الموت ولو نطفة على تفصيل سيأتي في ميراث الحمل .ثالثها : العلم بالجهة المقتضية للإرث من زوجية أو قرابة أو ولاء
(شروط الميراث: 3/ 22:ط:دارالسلاسل)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔