سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-508 Fatwa no: 1447-508

پانچ بھائیوں اور چار بہنوں میں دادا کی میراث کی تقسیم کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد خان فوت ہوا،اس نے ورثاء میں پانچ بیٹے(باسط خان،یاسر خان،جعفرخان،سیف خان اور احمد خان) اور چار بیٹی(نورین،افشاں،شہبانہ اور نادیہ) چھوڑے ہیں، پانچ بیٹوں میں سے ایک بیٹا( باسط خان) والد صاحب کی حیات میں شہید ہوئے ہیں،اب ان کے ورمیان میراث کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا۔وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ، میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو، تو وہ ادا کیا جائے گا،نیز اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد جو مال بچ جائے وہ مذکورہ ورثاء میں تقسیم کیا جائےگا،جو بھائی والد صاحب  کی حیات  میں  شہید ہوا ہے وہ میراث کا حقدار نہیں ۔لہذا  اگر مرحوم  (محمد خان)کے مذکور ہ ورثاء (چار بیٹے اور چار بیٹیوں  کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں،تو ان مذکورہ   ور ثاء میں میراث اس طور پر تقسیم ہوگی،کہ ہربھائی کو بہن سے دگنا حصہ مل جائے ،چنانچہ کل مال کے بارے حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے ہرایک بھائی کو دو حصے ،جبکہ ہر ایک بہن کو  ایک حصہ دیا جائےگا۔
قال الله تعالی:
 {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}             [النساء: 11]
السراجي في الميراث:
قال علماءنا:تتعلق بتركة الميت حقوق اربعةمرتبة:الاول يبدأبتكفينه وتجهيزه من غيرتبذيرولاتقتير،ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله ،ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي.
(الحقوق المتعلقة بتركة الميت:ص:5:ط:بشرى)

الموسوعة الفقهية الكويتية :
وللإرث ثلاثة شروط:
أولها : تحقق موت المورث أو إلحاقه بالموتى حكما كما في المفقود إذا حكم القاضي بموته أو تقديرا كما في الجنين الذي انفصل بجناية على أمه توجب غرة .ثانيها : تحقق حياة الوارث بعد موت المورث ، أو إلحاقه بالأحياء تقديرا ، كحمل انفصل حيا حياة مستقرة لوقت يظهر منه وجوده عند الموت ولو نطفة على تفصيل سيأتي في ميراث الحمل .ثالثها : العلم بالجهة المقتضية للإرث من زوجية أو قرابة أو ولاء
(شروط الميراث: 3/ 22:ط:دارالسلاسل)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب