سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-509 Fatwa no: 1447-509

پھوپھی زاد بیٹی کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہے مفتان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہیں۔فاطمہ اور عائشہ۔فاطمہ سے ایک بیٹا وقاص ہے اور ایک بیٹی آمنہ ہے۔وقاص کا ایک بیٹا جمروز ہے ،جبکہ آمنہ کی بیٹی زبیدہ ہے اور پھر زبیدہ کی بیٹی حمیرہ ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ وقاص اور جمروز دونوں نے اپنی سوتیلی ماں عائشہ کا دودھ پیا ہوا ہے ۔تو کیا اب جمروز اور حمیرہ کا نکاح شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ جمروز اور حمیرہ کا نکاح شرعا درست نہیں ،وجہ اس کی یہ ہے کہ جب جمروز نے اپنی سوتیلی  ماں عائشہ کا دودھ پیا،تو وہ آمنہ  کا  رضاعی بھائی ہوا(اگرچہ نسبی رشتے میں وہ اس کا بھتیجا بن  رہا ہے) یوں زبیدہ اس کی بھانجی اور حمیرہ اسکی بھانجی کی بیٹی ہوگئی ،جس طرح بھانجی کے ساتھ نکاح درست نہیں ،اس طرح بھانجی کی بیٹی کے ساتھ بھی نکاح شرعا جائز نہیں ۔اس سے احتراز کیا جائے
قال الله تعالی :
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} 
[النساء: 23]
سنن أبى داود:
عن عائشة زوج النبى -صلى الله عليه وسلم- أن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة ».
(باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب: 2/ 177:دارالكتاب العربي)
 حاشية ابن عابدين:
قوله ( نسبا ) يعني يحرم من الرضاع أصوله وفروعه وفروع أبويه وفروعهم وكذا فروع أجداده وجداته الصلبيون وفروع زوجته وأصولها وفروع زوجها وأصوله وحلائل أصوله وفروعه.
(فصل فی المحرمات:ص: 3/ 31:ط:دارالفکر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب