نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ جمروز اور حمیرہ کا نکاح شرعا درست نہیں ،وجہ اس کی یہ ہے کہ جب جمروز نے اپنی سوتیلی ماں عائشہ کا دودھ پیا،تو وہ آمنہ کا رضاعی بھائی ہوا(اگرچہ نسبی رشتے میں وہ اس کا بھتیجا بن رہا ہے) یوں زبیدہ اس کی بھانجی اور حمیرہ اسکی بھانجی کی بیٹی ہوگئی ،جس طرح بھانجی کے ساتھ نکاح درست نہیں ،اس طرح بھانجی کی بیٹی کے ساتھ بھی نکاح شرعا جائز نہیں ۔اس سے احتراز کیا جائے
قال الله تعالی :
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ}
[النساء: 23]
سنن أبى داود:
عن عائشة زوج النبى -صلى الله عليه وسلم- أن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة ».
(باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب: 2/ 177:دارالكتاب العربي)
حاشية ابن عابدين:
قوله ( نسبا ) يعني يحرم من الرضاع أصوله وفروعه وفروع أبويه وفروعهم وكذا فروع أجداده وجداته الصلبيون وفروع زوجته وأصولها وفروع زوجها وأصوله وحلائل أصوله وفروعه.
(فصل فی المحرمات:ص: 3/ 31:ط:دارالفکر)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔