نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ اگر کسی پر جبر اور زبردستی کرکے اس سے طلاق لی جائے اور وہ زبانی طور پر طلاق دیدے،تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔البتہ اگر زبردستی کرکے تلفظ کئے بغیرطلاق نامے پر دستخط کرائے جائے،تو ا س صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ آپ نے تشدد اورزور وزیادتی کے نتیجے میں اپنی بیوی کو زبانی طور پر بھی تین طلاقیں دیدی ہیں،اس لئے آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں۔اب وہ آپ پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،لہذا آپ دونوں کےلئے میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔عدت گزارنے کے بعد آپ کی بیوی آزاد ہے،جہاں چاہے وہ نکاح کرسکتی ہے۔
قال الله تعالى:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 229، 230]
في المبسوط للسرخسي :وخلع المكره وطلاقه وعتاقه جائز عندنا وهو باطل عند الشافعي رحمه الله تعالى فتأثير الإكراه عنده في إلغاء عبارة المكره كتأثير الصبي والجنون وعندنا تأثير الإكراه في انعدام الرضا لا في اهدار القول حتى تنعقد تصرفات المكره... وحجتنا في ذلك ما روي أن امرأة كانت تبغض زوجها فوجدته نائما فأخذت شفرة وجلست على صدره ثم حركته فقالت لتطلقني ثلاثا أو لأذبحنك فناشدها الله تعالى فأبت فطلقها ثلاثا ثم جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن ذلك فقال صلى الله عليه وسلم "لا قيلولة في الطلاق"( 6/ 316:دارالفكر)
وفي حاشية ابن عابدين:وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة.(مطلب في مسائل تصح مع الاكراه: 3/ 236:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔