سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-510 Fatwa no: 1447-510

تشدد اور جبر کرکے زبانی اورتحریری طلاق لینےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مورخہ 17 جون 2025ء کو میری بیوی بابرہ بیگم جو کہ غیرآباد تھی نے کال کی اور اس کے ساتھ میرے ہم ذلف آصف عباسی ساکن غازی آباد نے بھی کال کی کہ غازی آباد آجاوؤ،مجھے اپنے ساتھ گھر لے چلو،میں آباد ہونا چاہتی ہوں۔ میں ان کی کال پر شام 4بجے اپنے ہم ذلف کے گھر گیا۔جب میں وہاں پہنچا تو وہاں پر میرا سالا اسد خان ولد علی آفسر خان بھی موجود تھا،اس کی تھوڑی دیر بعد اسد خان میرے پاس ایک کاغذ لے کر آیا،اور کہا اس کاغذ پر دستخط کرو۔میں نے انکار کیا۔ان تینوں اسدخان ،میری اہلیہ اور میرے ہم ذلف آصف عباسی نےمجھ پر تشدد شروع کیا،مجھے مارا پیٹا،پھر میرے سالے نے پستول نکال لیا،اور میری بیوی نے چھری نکال کرمیری گردن پر رکھی،اور مارنے کی دھمکی دی،غالب امکان تھا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو میری جان جاتی،اس کے پیش نظر مجبورا مجھے سفید کاغذ پر دستخط کرنے پڑے،اور دستخط کرنے کے بعد انہوں نے دھمکی آمیز الفاظ کے ساتھ بیٹھایا اور مجھ سے زبانی بھی طلاق لےلی،جبکہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا۔ میں اپنی بیگم بابرہ دخترعلی آفسرخان کو آباد کرناچاہتا ہوں۔جو کچھ میرے ساتھ ہوا،سب زبردستی کیا گیا۔مختصر یہ کہ مجھ سے زبردستی ویڈیو بنائی گئی اور طلاق کے کاغذ پر دستخط کروائے گئے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائی کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوچکی ہے۔ یا نہیں؟ تنقیح:طلاق کے الفاظ یہ تھے۔میرے طرف سے تمہیں طلاق ہو،طلاق ہو،طلاق ہو۔
جواب :

واضح رہے کہ اگر کسی پر جبر اور زبردستی کرکے اس سے طلاق لی جائے  اور وہ زبانی طور پر طلاق دیدے،تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔البتہ اگر زبردستی کرکے  تلفظ کئے بغیرطلاق نامے پر  دستخط کرائے جائے،تو ا س صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ  آپ نے تشدد اورزور وزیادتی کے نتیجے میں  اپنی بیوی کو زبانی طور پر بھی تین طلاقیں دیدی ہیں،اس لئے آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں۔اب وہ آپ پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،لہذا آپ دونوں کےلئے میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔عدت گزارنے کے بعد آپ کی بیوی آزاد ہے،جہاں چاہے وہ نکاح کرسکتی ہے۔
قال الله تعالى:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 229، 230]
في المبسوط للسرخسي :وخلع المكره وطلاقه وعتاقه جائز عندنا وهو باطل عند الشافعي رحمه الله تعالى فتأثير الإكراه عنده في إلغاء عبارة المكره كتأثير الصبي والجنون وعندنا تأثير الإكراه في انعدام الرضا لا في اهدار القول حتى تنعقد تصرفات المكره... وحجتنا في ذلك ما روي أن امرأة كانت تبغض زوجها فوجدته نائما فأخذت شفرة وجلست على صدره ثم حركته فقالت لتطلقني ثلاثا أو لأذبحنك فناشدها الله تعالى فأبت فطلقها ثلاثا ثم جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن ذلك فقال صلى الله عليه وسلم "لا قيلولة في الطلاق"( 6/ 316:دارالفكر)
وفي حاشية ابن عابدين:وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة.(مطلب في مسائل تصح مع الاكراه: 3/ 236:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب