سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-511 Fatwa no: 1447-511

ٹھیکہ دار کو دینے والی رقم میں زکوۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے گھر بنانے کا ٹھیکہ دیا ہوا ہے،ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے کا ۔اور اس میں سے پچاسی لاکھ روپے ٹھیکہ دار کو ادا کردئے گئے ہیں،جبکہ بیس لاکھ روپے مزید دینے ہیں،کیونکہ گھر کا کام جاری ہے۔اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ زکوۃ کا وقت بھی قریب ہے،یکم رمضان کو زکوۃ ادا کرنا ہے،تو کیا میرے پاس گھر کی تعمیر کےلئے جو بیس لاکھ روپے رکھے ہوئے ہیں،ان میں کوۃ واجب ہے یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی زمین ہرسال فروری میں ٹھیکے پر دیتا ہوں،بیس لاکھ روپے میں ،اور رقم اڈوانس اصول کرتا ہوں،تو کیا اس میں بھی زکوۃ واجب ہوگی؟راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ :
1-چونکہ بیس لاکھ کی رقم   شخصِ مذکور کے ذمہ واجب الاداء ہے اس لئے  یہ زکوۃ کی رقم سے منہا کی جاسکتی  ہے۔
2-اس صورت میں  مذکورہ بیس لاکھ پر  زکوۃ واجب ہے۔اگرچہ اس رقم پر مکمل سال نہ گزرا ہو،کیونکہ جب آدمی صاحبِ نصاب ہو،تو درمیانِ سال میں آنے والی   رقم بھی اصل مال کے ساتھ جمع کی جائیگی اور مجموعے پر زکوۃ دینا لازمی  ہوگا۔
الدر المختار:
(وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)سواء كان لله كزكاة وخراج او للعبد.
(كتاب الزكاة:3/172:ط:دار الكتب)
 الفتاوى الهندية:
ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك.
(الفصل الأول في تفسيرها: 1/ 175:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب