نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: سعودی حکومت کی جانب سے اگر کسی کا عمرے کا ارادہ نہ ہو ،تو وہ نیچے والے مطاف میں نہیں جاسکتا، اس وجہ سے بعض لوگ بغیر نیت عمرہ کے احرام باندھ کر مطاف میں جاتے ہیں تاکہ پولیس والوں کو پتہ نہ چلے اور نیت یہ ہوتی ہے کہ طواف اور نماز وہاں پر پڑھے،آیا احرام باندھ کر بلانیت عمرہ طواف اور نماز کیلئے جاسکتا ہے؟جبکہ حکومت کی طرف سے غیر معتمرین پر وہاں جانے پر پابندی ہے،نیز شخص مذکور اگر صرف نماز اور طواف کی غرض سے احرام باندھ کر نیچے والے مطاف میں جائے ،تو کیا حکم ہے ؟
شریعت کے موافق انتظامی امور میں حاکم وقت کی اتباع لازم ہوتی ہےمخالفت کرنے کی وجہ سے انسان گناہ گار ہوجاتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص عمرہ کی نیت کے بغیر احرام باندھ کرمطاف میں طواف اور نماز کیلئے جائے،تو حاکم وقت کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا ۔
كما في قوله تعالى:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا.
(سورة النساء،آيت59)
وفي زهرة التفاسير:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا.
عن ابى هريرة قال هم الأمراء وفى لفظ هم أمراء السّرايا هذا لفظ عام يشتمل الملوك وأمراء الأمصار والقضاة وأمراء السّرايا والجيوش قال على رضى الله عنه حق على الامام ان يحكم بما انزل الله ويؤدى الامانة فاذا فعل ذلك فحق على الرعية ان يسمعوا ويطيعوا... وهذا الحكم يعنى وجوب إطاعة الأمير مختص بما لم يخالف امره الشرع يدل عليه سياق الآية فان الله تعالى امر الناس بطاعة اولى الأمر بعد ما أمرهم بالعدل فى الحكم تنبيها على ان طاعتهم واجبة ما داموا على العدل ونصّ على ذلك فيما بعد فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ.
(سورة النساء،آيت59،ج2،ص152،ط: مكتبة الرشدية)
وفى الفتاوى الهندية:
وتكره الصلاة حاسرا رأسه إذا كان يجد العمامة وقد فعل ذلك تكاسلا أو تهاونا بالصلاة ولا بأس به إذا فعله تذللا وخشوعا بل هو حسن. كذا في الذخيرة.
(الفصل الثاني فيما يكره فى الصلاة،ج1،ص106،ط:دارالفكر)
وفى الموسوعة الفقهية:
أَمَّا طَوَافُ التَّطَوُّعِ غَيْرُ طَوَافِ التَّحِيَّةِ، فَلاَ يَخْتَصُّ بِزَمَانٍ دُونَ زَمَانٍ، وَيَجُوزُ فِي أَوْقَاتِ كَرَاهَةِ الصَّلاَةِ عِنْدَ جُمْهُورِ الْفُقَهَاءِ. وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَطَوَّعَ وَيَكُونَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ مِنْ سَائِرِ الْفُرُوضِ.وَيَصِحُّ مِنْ كُل مُسْلِمٍ عَاقِلٍ مُمَيِّزٍ - وَلَوْ مِنَ الصِّغَارِ - إِذَا كَانَ طَاهِرًا.
(أَنْوَاعُ الطَّوَافِ،ج29،ص123،ط: مطابع دار الصفوة)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔