سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-512 Fatwa no: 1447-512

جرموق پر مسح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جرموق پر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟اور آج کل جو موزوں پر پہنے جاتے ہیں کیا یہ وہی جرموق ہیں ،جن کو فقہائے کرام نے جرموق کہا ہے۔وضاحت فرمائیں۔
جواب :

فقہائے کرام نے   جرموق کا  جو حکم بیان فرمایا ہے، اس  سے واضح ہوتا ہے کہ اس  زمانے کے جرموق اور مروجہ جرموق میں بڑا فرق ہے،وہ اس طرح کہ اس بات پر تمام ہم عصر اہل علم کا اتفاق ہے کہ اگر  صرف مروجہ جرموق پہنے جائیں ،اس کے نیچے موزے نہ ہوں،تو اس پر مسح جائز نہیں جبکہ اس زمانے کے جرموق کے بارے میں  فقہائے کرام  اس بات پر متفق ہیں کہ اگر موزوں کے بغیر جرموق پہنے جائیں ،تو اس پر مسح جائز ہے۔اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ  موجودہ  زمانے کے جرموق کو اس زمانے کے جرموق پر قیاس کرنا درست نہیں ۔لہذا مروجہ جرموق پر  موزوں کے اوپر  پہنے کی  صورت میں بھی مسح جائز نہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔
حاشية ابن عابدين:
قوله ( أو جرموقيه ) بضم الجيم جلد يلبس فوق الخف لحفظه من الطين وغيره على المشهور. قهستاني  ويقال له الموق وليس غيره كما أفاده في البحر  قوله ( ولو فرق خف ) أفاد جواز المسح عليهما منفردين أيضا وهذا لو كانا من جلد فلو من كرباس لا يجوز ولو فوق الخف إلا أن يصل بلل المسح إلى الخف ثم الشرط بأن يكونا بحيث لو انفردا يصح مسحهما حتى لو كان بهما خرق مانع لا يجوز المسح عليهما.
(شروط المسح على الخفين:1/268:دارالفكر)
پہلی  خط کشیدہ عبارت  میں علامہ شامی فرماتے ہیں  کہ  "الدر المختار" کی عبارت میں  مصنف نے  یہ فرمایا ہے کہ "جرموق پر مسح جائز ہے اگرچہ اس کو موزے کے اوپر کیوں نہ پہنا جائے" اس سے یہ بات معلوم ہوگئی  کہ  جرموق پر  موزوں کے بغیر بھی مسح درست ہے۔
جبکہ دوسری خط کشیدہ عبارت میں  فرمایا ہے کہ جرموق  جب  موزوں کے اوپر پہنے جائے ،تو ان پر تب مسح درست ہوگا کہ جب وہ  ایسے ہوں کہ اگر بغیر  موزوں کے پہنے جائیں ،تو ان پر مسح درست  ہو۔
ان دونوں عبارات سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ  اس زمانے کے جرموق مروجہ جرموق سے بالکل مختلف  تھے،کیونکہ   موزوں کے بغیر مروجہ جرموق پر   کوئی بھی مسح کا قائل نہیں۔
اسی طرح بدائع الصنائع میں مذکور ہے"
"وأما المسح على الجرموقين من الجلد فإن لبسهما فوق الخفين جاز عندنا وعند الشافعي لا يجوز وإن لبس الجرموق وحده قيل إنه على هذا الخلاف  والصحيح أنه يجوز المسح عليه بالإجماع"
(مبحث المسح على الجورب: 1/ 10:دارالكتاب العربي)
اس عبارت میں علامہ کاسانی فرماتے  ہیں کہ ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ  کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ اگر جرموق موزوں کے او پر پہنے جائیں  تو اس پر مسح جائز ہے یا نہیں ؟ ہمارے نزدیک جائز ہے جبکہ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔لیکن اگر صرف جرموق پہنے جائیں (موزوں کے بغیر) تو بعض حضرات کے  نزدیک اس میں بھی یہی اختلاف  ہے  لیکن صحیح قول یہ ہے کہ اس صورت میں کوئی اختلاف نہیں  ،سب کے نزدیک جائز ہے۔
اس عبارت سے بھی  یہ بات واضح ہوگئی کہ اس زمانے کے جرموق موجودہ زمانے کے جرموق سے  الگ تھلگ  تھے۔
تیسری عبارت بحرالرائق کی ہے:
"وأما الجرموق فهو فارسي معرب ما يلبس فوق الخف وساقه أقصر من الخف"
علامہ ابن نجیم فرماتے ہیں  کہ "جرموق" فارسی کا لفظ ہے اور اس کو موزے کے اوپر پہنا جاتا ہے اور اس کی"ساق" موزے کی" ساق" سے چھوٹی ہوتی ہے"
اس عبارت سے بھی  یہ بات وضح ہوگئی کہ اس زمانے کا  جرموق موزے کی طرح ساق والا ہوتا تھا  اگرچہ اس کی  ساق موزے کی  ساق سے کچھ چھوٹی ہوتی تھی  جبکہ موجودہ  جرموق کی ساق ہوتی ہی نہیں ۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ جن حضرات نے مروجہ جرموق پر مسح کو جائز قرار دیا  ہے  انہوں نے دونوں  جرموق کے درمیان فرق ملحوظ نظر نہیں رکھا ہے جبکہ  ہمارے نزیک   دونوں کے درمیان فرق ہے اس لئے موجودہ زمانے کے جرموق پر مسح کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور  یہی احوط ہے۔

Mufti

تاریخ جواب: 18 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب