نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںجوتوں میں نماز پڑھنے سے متعلق مندرجہ بالا روایات، احادیثِ مبارکہ کی مستند کتابوں میں موجود ہیں،جیساکہ سوال میں اس کی نشاندہی کی گئی ہے،اس کے علاوہ بھی کئی صحیح احادیث موجود ہیں،جن میں جوتوں سمیت نماز پڑھناکی ثابت ہے،چنانچہ ابوداؤد شریف کی حدیث ہے"خالفوا اليهود فإنهم لا يصلون فى نعالهم ولا خفافهم" تم یہود کی مخالفت کرو،کیونکہ وہ جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ان احادیث کی بنا پر فقہ حنفی کی متعبر کتاب " الدر المختار " میں جوتوں سمیت نماز پڑھنے کو اٖفضل قراردیا گیا ہے ،چنانچہ لکھتے ہیں" وينبغي لداخله تعاهد نعله وخفه وصلاته فيهما أفضل"یعنی مسجد میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ اپنے جوتے اور موزے کا خیال رکھے اور انہی میں نماز پڑھنا افضل ہے" علامہ ابن عابدین شامی ؒ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حکم مطلق نہیں ،بلکہ یہ اس صورت میں ہے کہ موزے یا جوتے پاک ہوں،اور مسجد کے گندہ ہونے کا خطرہ نہ ہو،بصورت دیگر جوتے اتارنا ضروری ہوگا۔
بذل المجہود کے مصنف خلیل احمد سہارنپوریؒ لکھتے ہیں "قلت:دل هذا الخديث على أن الصلاة في النعال كانت مامورة لمخالفة اليهود،أما في زماننا فينبغي أن تكون الصلاة مامورة بها حافيا لمخالفة النصارى،فإنهى يصلون متنعلين لا يخلعونها عن أرجلهم"
یعنی جوتوں میں نماز پڑھنے کا حکم یہود کی مخالفت کی وجہ سے تھا،جبکہ آج کل چونکہ نصاری جوتوں سمیت نماز پڑھتے ہیں،اس لئے ان کی مخالفت میں جوتے اتار کر نماز پڑھنا چاہئے۔
پس خلاصہ کلام یہ ہوا کہ چونکہ جوتوں میں نماز پڑھنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے،اس لئے اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے،لہذا اگر کوئی شخص درج ذیل شرائط کا خیال رکھتے ہوئے جوتوں میں نماز پڑھے گا،تو بلاکراہت جائز ہے:
1-جوتے پاک ہوں
2-سجدے کے وقت پاؤں کی انگلیاں کو زمین کا ثقل(بوجھ ) محسوس ہوتا ہو۔
باقی چونکہ ادب و احترام کا تعلق عرف سے ہوتا ہے،اور آج کل ہمارے خطے میں جوتوں سمیت مسجد جانا یا بلا وجہ جوتوں سمیت نماز پڑھنا خلاف ادب سمجھا جاتا ہے،خصوصا جب مسجد میں قالین اور ٹائلز لگے ہوئے ہوں،تو صاحبِ بذل المجھود کی رائے اور عرف کو سامنے رکھ کر جوتوں کے بغیر نماز پڑھنا اولی معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح علامہ ابن عابدین شامی ؒ نے بھی اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں" قلت لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه وإن كانت طاهرة وأما المسجد النبوي فقد كان مفروشا بالحصا في زمنه بخلافه في زماننا ولعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلا من سوء الأدب تأمل"
في صحيح البخاري :حدثنا آدم بن أبي إياس قال حدثنا شعبة قال أخبرنا أبو مسلمة سعيد بن يزيد الأزدي قال : سألت أنس بن مالك أكان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي في نعليه ؟ قال نعم.(باب الصلاة في النعال:1/151:دارابن كثير)
في سنن أبى داود :عن أبى سعيد الخدرى قال بينما رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلى بأصحابه إذ خلع نعليه فوضعهما عن يساره فلما رأى ذلك القوم ألقوا نعالهم فلما قضى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاته قال « ما حملكم على إلقائكم نعالكم ». قالوا رأيناك ألقيت نعليك فألقينا نعالنا. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « إن جبريل -صلى الله عليه وسلم- أتانى فأخبرنى أن فيهما قذرا ». وقال « إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر فإن رأى فى نعليه قذرا أو أذى فليمسحه وليصل فيهما.( الصلاة في النعل: 1/ 247:دارالكتاب العربي)
وفيه ايضا:عن يعلى بن شداد بن أوس عن أبيه قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « خالفوا اليهود فإنهم لا يصلون فى نعالهم ولا خفافهم(الصلاة في النعل: 1/ 247:دارالكتاب العربي)
في الدر المختار:وينبغي لداخله تعاهد نعله وخفه وصلاته فيهما أفضل(فصل في لا باس باتخاذ المسجد لغير الرياء: 1/ 657:دارالفكر)
في حاشية ابن عابدين :قوله ( وصلاته فيهما ) أي في النعل والخف الطاهرين أفضل مخالفة لليهود تاترخانية ...قلت لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه وإن كانت طاهرة(مطلب في احكام المسجد: 1/ 657:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 18 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔